اسدالدین اویسی کےمسجد مانگنے پربالی ووڈ کی مشہوراداکارہ نےکہا- ہمارے 40 ہزارمندرلوٹاؤ

مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اویسی نے ایک انٹرویو کوشیئرکرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا 'مجھے میری مسجد واپس چاہئے'۔ کوئنا مترا نے اسے ری ٹوئٹ کرکے یہ بات کہی ہے۔

Nov 17, 2019 08:37 AM IST | Updated on: Nov 17, 2019 08:56 AM IST
اسدالدین اویسی کےمسجد مانگنے پربالی ووڈ کی مشہوراداکارہ نےکہا- ہمارے 40 ہزارمندرلوٹاؤ

مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

ممبئی: بگ باس 13 میں شرکت کرنے والی بالی ووڈ کی مشہوراداکارہ کوئنا مترا نے ایک متنازعہ ٹوئٹ کیا ہے۔ ساکی ساکی گانے سے مشہورہوئیں کوئنا مترا نےآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدراورحیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کےایک ٹوئٹ پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا 'مجھے ہمارے 40 ہزارمندرواپس چاہئے'۔

دراصل بابری مسجد - رام جنم بھومی تنازعہ پرسپریم کورٹ کا فیصلہ آنےکے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نےایک ٹوئٹ کیا تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویوکوشیئرکرتے ہوئےلکھا تھا 'مجھے میری مسجد واپس چاہئے'۔

بگ باس سے باہرہوئی تھیں کوئنا مترا

کوئنا مترا بگ باس 13 کے گھر میں دو ہفتے ہی رہ پائی تھیں۔ کوئنا مترا بگ باس 13 کے گھر میں دو ہفتے ہی رہ پائی تھیں۔

ٹی وی کے پاپولرشو 'بگ باس 13' میں اب تک کئی ارکان باہرہوچکے ہیں۔ اس میں ساکی ساکی گرل کوئنا مترا بھی شامل ہیں۔ کوئنا مترا بگ باس کے گھرمیں دوہفتے ہی رہ پائی تھیں۔ بگ باس کے گھرمیں شہنازگل اورساکی ساکی گرل کوئنا مترا کے درمیان ہائی وولٹیج ڈراما دیکھنے کوملا تھا۔

واضح  رہےکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نےکہا تھا کہ ان کی پارٹی ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت ایک مسجد کی تعمیرکیلئے دی جانے والی پانچ ایکڑکی زمین کے حق میں نہیں ہےکیونکہ یہ لڑائی قانونی حقوق اور بابری مسجد کیلئے تھی ۔ جب ان سے کچھ مسلم لیڈروں کےان تبصروں کے بارے میں پوچھا گیا کہ پانچ ایکڑزمین حکومت کےذریعہ تحویل میں لی گئی 67 ایکڑزمین میں سےہی الاٹ کی جانی چاہئے، توانہوں نےکہا کہ کئی سالوں تک جاری رہی یہ پوری جد و جہد زمین کے ایک ٹکڑے کیلئےنہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نےاتنےصبروتحمل سے کام کیوں لیا، ہم عدالت میں گئے، اگریہ زمین کا ایک ٹکڑا ہوتا توہم کہیں اورقبول کرسکتے تھے، لیکن گزشتہ پچاس سالوں سے ہم سبھی صبروتحمل کے ساتھ اس معاملہ کو قانون کی عدالت میں لڑ رہےتھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پانچ ایکڑ زمین مسلمانوں کو مسجد کے لئے نہیں لینی چاہئے۔

Loading...