جب ناراض سنجے گاندھی کو منانے کے لئے محمد رفیع پہنچے تھے دہلی

یہ کہنا رفیع کے لئے بڑا مشکل ہے کہ وہ انسان بڑے تھے یا آرٹسٹ بڑے تھے ۔ محمد رفیع کا جادو لوگوں پرسر چڑھ کر بول رہا ہے

Jul 31, 2015 01:27 PM IST | Updated on: Jul 31, 2015 01:29 PM IST
جب ناراض سنجے گاندھی کو منانے کے لئے محمد رفیع پہنچے تھے دہلی

اندور :  یہ کہنا رفیع کے لئے بڑا مشکل ہے کہ  وہ انسان بڑے تھے یا آرٹسٹ بڑے تھے ۔  محمد رفیع کا جادو لوگوں پرسر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ رفیع صاحب نہ صرف ایک بہترین سنگر تھے بلکہ ایک لاجواب انسان بھی تھے ، 13 سال کی عمر میں اپنی گلوکاری کا سفر شروع کرنے والے محمد رفیع نے اپنی زندگی سے بہت سارے لوگوں کو متاثر کیا ، آج ان کی سالگرہ پر آئیے ہم جانتے ہیں ان کی زندگی سے وابستہ کچھ ایسے ہی پہلوؤں کے بارے میں ۔

محمد رفیع کی پیدائش امرتسر کے قریب کوٹلہ سلطان میں 24 دسمبر 1924 کو ہوئی تھی ، اس کے بعد ان کا خاندان 1932 میں لاہور چلا گیا ۔

لاهور میں اپنے ہونے والے بہنوئی کی مدد سے رفیع صاحب ممبئی آئے ، جہاں انہوں نے گانے کی ٹریننگ لینی شروع کی ۔ رفیع نے اپنا پہلا گانا شیام سندر کی فلم گاؤں کی گوری کے لئے گایا ، اس نغمے کو انہوں نے جی ایم درانی کے ساتھ مل کر گایا تھا ۔

لوگو کا خیال تھا کہ محمد رفیع کی آواز شمی کپور پر سب سے زیادہ جچتی تھی ، لیکن محمد رفیع کے پسندیدہ اداکار شمی کپور نہیں بلکہ راجندر کمار تھے ،  جنہیں ٹی وی پر دیکھتے ہی رفیع گویا کھو سے جاتے تھے ۔

Loading...

رفیع کی گلوکاری کے تئیں محبت کو اسی بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ہندوستان پاکستان کی تقسیم ہوئی تھی تب اس وقت ان کی پہلی بیوی نے ہندوستان میں رکنے سے انکار کر دیا تھا ، ایسے میں رفیع نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی پہلی محبت یعنی سنگنگ کی خاطر ممبئی میں ہی ركیں گے ، جس کے بعد وہ اپنی پہلی بیوی سے الگ ہو گئے ۔

ایک بار سنجے گاندھی کشور کمار سے انتہائی ناراض ہو گئے تھے ، انہیں منانے اور کشور کمار کو سنجے گاندھی کے غصے سے بچانے کے لئے خود محمد رفیع نے خصوصی  طور پر سنجے گاندھی سے ملاقات کی تھی ۔

اکتیس جولائی 1980 کو جب رفیع صاحب اس دنیا کو الوداع کہہ گئے تو کشور کمار رفیع کے پیروں کے پاس ہی بیٹھ کر گھنٹوں تک بچوں کی طرح روتے رہے ۔

محمد رفیع کا دل بہت بڑا تھا ، ایک بار انہوں نے اپنی کالونی میں ایک بیوہ کو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پریشان دیکھا ، تو اس کے بعد سے رفیع صاحب نے پوسٹ آفس کے ذریعے ایک انجان شخص کے نام سے ہر ماہ اس بیوہ کو پیسے بھیجنا شروع کر دئے ۔

محمد رفیع کو موسیقی سے بے حد محبت تھی اور وہ اسے پیسوں کے ترازو میں کبھی نہیں تولتے تھے ، ایسے میں جب اس دور میں لتا منگیشکر سمیت کئی سنگرس نے اپنے پیسے بڑھانے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا تو رفیع صاحب اس قدر ناراض ہو گئے کہ انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ کبھی نہ گانے کا فیصلہ کر لیا ۔

اپنے کیریئر کے دوران رفیع صاحب ہمیشہ ٹاپ پر ہی رہے ، منا ڈے کے مطابق وہ اور کشور کمار ہمیشہ دوسری پوزیشن کے لئے لڑا کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ پہلی پوزیشن پر ہمیشہ محمد رفیع ہی قائم رہیں گے ۔

محمد رفیع کے لئے لوگوں کی محبت کتنی تھی اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ممبئی میں رفیع کا جنازہ نکالا گیا تو اس میں تقریبا 10 ہزار لوگ شامل ہوئے تھے ، رفیع کے گزر جانے پر دو دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا گیا تھا ۔

Loading...