உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات : کیا سیکس کرنے کی کوئی صحیح عمر ہے ؟

    • Share this:
      یہ ایک سنگین سوال ہے اور اسے کئی طریقوں سے سمجھنا ہوگا ۔ ہندوستانی قانون کے مطابق شادی کی عمر لڑکیوں کیلئے 18 سال اور لڑکوں کیلئے 21 سال طے کی گئی ہے ، لیکن آپسی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے یعنی سیکس کرنے کی عمر 16 سال طے کی گئی ہے ۔ یہ تو قانون کی بات ۔
      آپ کا سوال یہ ہے کہ سیکسول ایکٹو ہونے کیلئے کوئی ایسی عمر مقرر ہے ، تو اس کا جواب ہے نہیں ۔ سائنس ایسی کوئی تھیوری نہیں دیتا ، قانون ضرور دیتا ہے ۔
      سوال : کیا سیکسول ایکٹو ہونے کی کوئی صحیح عمر ہوتی ہے ؟ اکثر کہا جاتا ہے کہ کم عمر میں یہ سب کرنا ٹھیک نہیں ہوتا ، عمر کو مقرر کئے جانے کا کوئی پیمانہ ہے اور اگر ہے تو کیا ؟
      ڈاکٹر پارس شاہ
      جواب : یہ ایک سنگین سوال ہے اور اسے کئی طریقوں سے سمجھنا ہوگا ۔ ہندوستانی قانون کے مطابق شادی کی عمر لڑکیوں کیلئے 18 سال اور لڑکوں کیلئے 21 سال طے کی گئی ہے ، لیکن آپسی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے یعنی سیکس کرنے کی عمر 16 سال طے کی گئی ہے ۔ یہ تو قانون کی بات ۔
      آپ کا سوال یہ ہے کہ سیکسول ایکٹو ہونے کیلئے کوئی ایسی عمر مقرر ہے ، تو اس کا جواب ہے نہیں ۔ سائنس ایسی کوئی تھیوری نہیں دیتا ، قانون ضرور دیتا ہے ۔ لیکن وہی قانون اگر شادی کی عمر 18 سال اور آپسی رضامندی سے سیکس کی عمر 16 سال طے کرتا ہے تو اس قانون میں ہی یہ پنہاں ہے کہ شادی سے پہلے بھی آپسی رضامندی کے ساتھ سیکس جرم نہیں ہے ۔ حالانکہ سماج کا تصور کچھ اور ہی ہے ۔
      سماج شادی سے پہلے سیکس کی اجازت نہیں دیتا ہے ، لیکن ہم کتنی بھی کوشش کرلیں ، اس سچائی سے انکار نہیں کرسکتے کہ شادی اب سیکس کیلئے کوئی پیمانہ نہیں رہ گئی ہے ۔ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سیکسول ایکٹو ہوجاتے ہیں اور اب سماج کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے ۔ ہم جو کرسکتے ہیں ، وہ یہ ہے کہ سیکس ایجوکیشن کے ذریعہ انہیں سمجھدار اور ذمہ دار بنائیں۔

      kam-ki-baat
      تو سیکس کیلئے ایسی کوئی مقررہ عمر نہیں ہے ، لیکن ایک بات میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ جو چاہیں کرسکتے ہیں ، اگر ان تین "آر "کو سمجھ لیں اور اپنے دماغ میں گہرائی سے بیٹھالیں ۔
      پہلا آر : رسپانسبلیٹی یعنی ذمہ داری ۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ جو کررہے ہیں ، اس کیلئے خود ہی ذمہ دار ہیں ۔ اگر آپ سیکسول ایکٹو ہوتے ہیں اور اس کا کوئی برا انجام ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی آپ کی ہی ہوگی ۔ اسلئے جو بھی کریں سوچ سمجھ کر کریں اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کریں۔
      دوسرا آر : رسپیکٹ یعنی عزت ، کسی بھی کام میں رسپیکٹ بہت ضروری ہے ، خواہ وہ سیکس ہی کیوں نہ ہو ، اپنے ساتھی کی عزت کریں ، اس کی خواہش اور فیصلہ کا احترام کریں ۔ اپنے آپ کو کسی پر تھوپیں نہیں۔
      تیسرا آر :رائٹ ٹو سے نو یعنی نہیں کہنے کا حق ۔ یاد رکھئے ، آپ کو اور آپ کے ساتھی دونوں کا نہیں کہنے کا پورا حق ہے ۔ اگر آپ سیکس کرنے جارہے ہیں تو یہ آپ کا سوچا سمجھا اور ذمہ دارانہ فیصلہ ہونا چاہئے ، نہ کہ کسی دباو میں آکر لیا گیا فیصلہ۔ اگر آپ کا دل نہیں ہے تو آپ کو نا کہنے کا پورا حق ہےاور یہی حق آپ کے ساتھی کو بھی ہے ۔ اگر آپ کا ساتھی انکار کرے تو اس کے انکار کا احترام کریں۔

      ۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔

       
      First published: