உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار: مدارس میں جانے والے پورنیہ کے 10 بچوں کی سی ڈبلیو سی سے ہوئی گھر واپسی

    پورنیہ کے 10 طلبا کی چائلڈ ویلفیئر سینٹر سے اب گھر واپسی ہوگئی ہے۔ طلباکی گھر واپسی کو لے کر جمعیت علما مدھیہ پردیش اور سماجی تنظیموں کے ساتھ نیوز 18 اردو کی مہم مسلسل مہم کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔

    پورنیہ کے 10 طلبا کی چائلڈ ویلفیئر سینٹر سے اب گھر واپسی ہوگئی ہے۔ طلباکی گھر واپسی کو لے کر جمعیت علما مدھیہ پردیش اور سماجی تنظیموں کے ساتھ نیوز 18 اردو کی مہم مسلسل مہم کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔

    پورنیہ کے 10 طلبا کی چائلڈ ویلفیئر سینٹر سے اب گھر واپسی ہوگئی ہے۔ طلباکی گھر واپسی کو لے کر جمعیت علما مدھیہ پردیش اور سماجی تنظیموں کے ساتھ نیوز 18 اردو کی مہم مسلسل مہم کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔

    • Share this:
    پورنیہ: بہار پورنیہ کے 10 طلبا کی چائلڈ ویلفیئر سینٹر سے اب گھر واپسی ہوگئی ہے۔ طلباکی گھر واپسی کو لے کر جمعیت علما مدھیہ پردیش اور سماجی تنظیموں کے ساتھ نیوز 18 اردو کی مہم مسلسل مہم کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔ طلبا کی گھر واپسی کے بعد جہاں والدین خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما نے معاملے سے متعلق مدھیہ پردیش حکومت سے بیرا گڑھ ریلوے پولیس اور محکمہ سی ڈبلیو سی کے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بہار پورنیہ کے 10 طلبا مدرسہ کے استاد محبوب عالم کے ہمراہ جب پورنیہ سے بھوپال مدرسہ میں داخلہ کے لئے آرہے تھے تو انہیں 7 جون کو بیرا گڑھ ریلوے پولیس نے گرفتار کرکے سی ڈبلیو سی کے حوالے کردیا تھا۔ مدرسہ استاد پر بچوں کو اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا، مگر جب بچوں کے والدین بہار پورینہ سے بھوپال سی ڈبلیو سی میں حاضر ہوئے تو ان کے دستاویز کی جانچ تو کی گئی، مگر والدین کی بچوں سے ملاقات کروانے سے انکار کردیا گیا۔

    یہی نہیں بچوں کے والدین کو بھوپال بلوانے کے بعد بھی بچے والدین کے سپرد نہیں کئے گئے، بلکہ انہیں بہار سی ڈبلیو سی کے حوالے کیا گیا اور اب بہار سی ڈبلیو سی نے تمام دستاویزات کی جانچ کرنے کے بعد بچوں کو ان کے والدین کے ہمراہ گھر کے لئے روانہ کردیا ہے۔
    بہار پورنیہ کے سماجی کارکن ڈاکٹر امتیاز احمد کہتے ہیں کہ پورنیہ بہار سے 10 بچے بھوپال اس لئے ان کے والدین نے بھیجے تھے تاکہ وہ وہاں پر مدرسہ میں رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ مگر یہ بچے بھوپال میں تعصب کا شکار ہوئے اور ایک لمبی قانونی لڑائی اور جدو جہد کے بعد سبھی بچوں کو سی ڈبلیو سی نے والدین کے حوالے کئے۔ ہم اس کام میں جن لوگوں نے بھی تعاون کیا ہے۔ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ خصوصی طور پر مدھیہ پردیش جمعیت علما کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے بھوپال سے بہار تک قانونی لڑائی میں ہماری قدم پر مدد کی ہے۔ نیوز 18 اردو کا بھی شکریہ کہ انہوں نے ہر قدم پر ہمارا سایہ کی طرح ساتھ دیا ہے۔
    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے نیوز18 اردو سے خاص بات چیت میں کہا کہ بہار کے بچے جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھوپال آئے تھے انہیں سی ڈبلیو سی کے متعصبانہ رویہ کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سی ڈبلیوسی اور بیراگڑط پولیس کے منفی رویہ کے سبب بچوں کو ایک لمبے چقت تک والدین سے دور چائلڈ لائن میں رہنا پڑا۔ جمعیت علما اس معاملے کو لیکر قانونی لڑائی لڑے گی۔

    ساتھ ہی ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ افسران جنہوں نے بہار کے بچوں کو ان کے تعلیمی حق سے محروم کیا ہے ان کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ آئیندہ کسی بچے کو اس کے تعلیمی حق سے محروم نہیں کیا جا سکے۔اسی کے ساتھ ہم مدھیہ پردیش حکومت سے یہ بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ بہار کے پورنیہ میں ایک وفد کو بھیجئے تاکہ وہاں کے لوگ مدھیہ پردیش میں تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو بھیجنے کے لئے پھر سے ذہن بنا سکیں ۔ سی ڈبلیوسی کا منفتی رویہ بہت خوفناک تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: