ہوم » نیوز » عالمی منظر

ہندوستان - چین کے درمیان ہوئی 10 ویں دور کی بات چیت، ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور ڈیپسانگ میں کشیدگی کم ہونے کی امید

India-China Standoff: میٹنگ صبح 10 بجے حقیقی کنٹرول لائن پر چین کی طرف مولدو سرحد علاقے میں شروع ہوئی، جو 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی۔ ہندوستان نے اس دوران علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور دیپاسانگ جیسے علاقوں سے بھی تیزی سے فوجی واپسی پر زور دیا۔

  • Share this:
ہندوستان - چین کے درمیان ہوئی 10 ویں دور کی بات چیت، ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور ڈیپسانگ میں کشیدگی کم ہونے کی امید
ہندوستان - چین کے درمیان ہوئی 10 ویں دور کی بات چیت

نئی دہلی: ہندوستان اور چین (India-China) کے درمیان مشرقی لداخ (Eastern Ladakh) میں جاری تنازعہ کو لے کر 10 ویں دور کی فوجی بات چیت 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی۔ یہ میٹنگ ہفتہ کے روز صبح 10 بجے شروع ہوئی تھی، جس میں چرچا کا اہم نکات مشرقی لداخ میں ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور دیپسانگ جیسے علاقوں سے بھی فوجی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے کا رہا۔ پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی طرف سے ہندوستان اور چین کے فوجیوں، اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان کو ہٹائے جانے کا عمل مکمل ہونے کے دو دن بعد کور کمانڈر سطح کی 10 ویں دور کی یہ بات چیت ہوئی۔


سرکاری ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ صبح 10 بجے حقیقی کنٹرول لائن پر چین کی طرف مولدو سرحد علاقے میں شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس دوران علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور دپاسانگ جیسے علاقوں سے تیز رفتار سے فوجی واپسی پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعطل کو 9 ماہ ہوگئے ہیں۔ معاہدے کے بعد دونوں فریق نے پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی طرف علاقوں سے اپنے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے اور اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان، بنکروں اور دیگر تعمیرات کو بھی ہٹا لیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ 10 ویں دور کی بات چیت کا اہم نکات دیگر علاقوں سے بھی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے کا ہے۔


وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے 11 فروری کو پارلیمنٹ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان پینگونگ جھیل علاقے سے فوجیوں کو منصوبہ بند طریقے سے ہٹانے کا معاہدہ ہوگیا ہے۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے 11 فروری کو پارلیمنٹ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان پینگونگ جھیل علاقے سے فوجیوں کو منصوبہ بند طریقے سے ہٹانے کا معاہدہ ہوگیا ہے۔


وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہی تھی یہ بات

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے 11 فروری کو پارلیمنٹ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان پینگونگ جھیل علاقے سے فوجیوں کو منصوبہ بند طریقے سے ہٹانے کا معاہدہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاہدے کے مطابق، چین اپنی فوج کی ٹکڑیوں کو ہٹاکر پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے میں فنگر 8 علاقے کی مشرقی سمت کی طرف لے جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان اپنی فوجی ٹکڑیوں کو فنگر تین کے پاس اپنے مقامی کیمپ دھن سنگھ تھاپا پوسٹ پر رکھے گا۔

راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اس طرح کا قدم پینگونگ جھیل کے جنوبی ساحلی علاقہ میں اٹھایا جائے گا۔ وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اس پر رضامندی بنی ہے کہ پینگونگ جھیل علاقے میں فوجیوں کی واپسی کا عمل مکمل ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر دونوں فریق کے سینئر کمانڈروں کی آئندہ میٹنگ دیگر سبھی موضوعات کو حل کے لئے بلائی جائے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 21, 2021 08:14 AM IST