உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں 12 سال کے بچے سے 4 لوگوں نے کی اجتماعی آبروریزی، پھر پرائیویٹ پارٹ میں.....

    دہلی میں 12 سال کے بچے سے 4 لوگوں نے کی اجتماعی آبروریزی

    دہلی میں 12 سال کے بچے سے 4 لوگوں نے کی اجتماعی آبروریزی

    دہلی کے سیلم پور میں ملزمین نے 12 سال کے بچے کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کے بعد اس کے پرائیویٹ پارٹ میں راڈ ڈال دیا اور اینٹوں اور راڈ سے بری طرح سے مار پیٹ کی۔ لڑکے کی ماں نے بتایا کہ بری طرح لہولہان اور درد سے کراہتے ہوئے بچے نے پانے ساتھ ہوئے اس وحشت ناک حادثہ کے بارے میں 22 ستمبر کو اپنے اہل خانہ کو بتایا، جس کے بعد والدین نے اس کی اطلاع پولیس کو دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے سیلم پور علاقے میں ایک 12 سال کے بچے کے ساتھ اجتماعی آبروریزی (Gangrape) کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی خواتین کمیشن کو ملی شکایت میں سیلم پور کی رہنے والی خاتون نے بتایا کہ اس کے 12 سال کے بیٹے کے ساتھ 18 ستمبر کو چار لوگوں نے بربریت کے ساتھ آبروریزی (Brutal Rape) کی۔ ماں نے بتایا کہ بیٹے کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کرنے کے ساتھ ہی ملزمین نے اس کے پرائیویٹ پارٹ میں راڈ ڈال دیا اور اینٹوں اور راڈ سے بری طرح سے مار پیٹ کی۔

      متاثرہ بچے کی والدہ نے بتایا کہ بری طرح لہولہان اور درد سے کراہتے ہوئے بچے نے یہ خطرناک حادثہ 22 ستمبر کو اپنے اہل خانہ کو بتایا، جس کے بعد والدین نے اس کی اطلاع دہلی پولیس کو دی اور لڑکے کو اسپتال میں داخل کرایا۔ فی الحال بچے کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔

      اس حادثہ پر نوٹس لیتے ہوئے دہلی خواتین کمیشن (ڈی سی ڈبلیو) نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے پولیس سے اس معاملے میں درج کی گئی ایف آئی آر کی کاپی، گرفتار کئے گئے ملزمین کی جانکاری، اگر نہیں گرفتار ہوئے ہیں تو اس کے پیچھے کی وجہ اور اس پورے معاملے پر کی گئی کارروائی کی پوری رپورٹ 28 ستمبر تک دینے کے لئے کہا ہے۔

      دہلی میں رونما ہوئے اس حادثہ پر دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کی طرف سے کہا گیا، ’دہلی میں لڑکی تو کیا لڑکے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایک 12 سال کے لڑکے کے ساتھ 4 افراد نے بری طرح سے آبروریزی کی اور ڈنڈوں سے پیٹ کر نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ ہماری ٹیم نے معاملے میں ایف آئی آر درج کروائی۔ ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر 3 ابھی بھی فرار چل رہے ہیں۔ اس معاملے پر سختی سے کارروائی کرنے اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا گیا ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: