உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کی 12ویں کی ٹاپر کو ملی گردن کاٹنے کی دھمکی، بنا حجاب کی تصویر پر بھڑکے کٹروادی

    12ویں کی ٹاپر عروسہ پرویز کو حجاب نہ پہننے پر ملی جان سے مارنے کی دھمکی۔ (تصویر: ٹوئٹر)

    12ویں کی ٹاپر عروسہ پرویز کو حجاب نہ پہننے پر ملی جان سے مارنے کی دھمکی۔ (تصویر: ٹوئٹر)

    ایک استاد غلام رسول نے کہا کہ اگر انہیں حجاب سکھانا ہے تو والد یا بھائی کے مشورے سے دی جا سکتی ہے۔ مقامی اسلامی اسکالرز نے ان آن لائن، بے بنیاد تبصروں کی مذمت کی ہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں دارالعلوم رحیمیہ کے مفتی عظمت اللہ نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ اسلام سوشل میڈیا پر ٹرولنگ یا فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بھی کہا کہ اسلام کسی پرتشدد کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔

    • Share this:
      سرینگر:جب جموں و کشمیر(Jammu Kashmir)سے تعلق رکھنے والی عروسہ پرویز(Aroosa Parvaiz) نے اس سال 12ویں بورڈ کے امتحان میں ٹاپ کیا تو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی محنت کی کامیابی کے بعد اسے زہریلی دھمکیاں بھی ملیں گی۔ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے 8 فروری کو 12ویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔ عروسا نے 500 میں سے 499 نمبر لے کر سائنس اسٹریم میں ٹاپ کیا۔ ٹاپ کرنے کے بعد سوشل میڈیا (Social Media) پر مبارکباد کے پیغامات آنے لگے لیکن ان کے اہل خانہ کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ عروسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تلخ ٹرول سامنے آنے لگے۔ یہ بھی کہا گیا کہ میں سمجھ نہیں پائی کہ ایک طرف وہی معاشرہ مجھے کیوں ٹرول کرتا ہے اور دوسری طرف مجھ پر فخر بھی محسوس کرتا ہے۔

      کشمیر میں کچھ جنونی اور ٹرولرز سوشل میڈیا پر عروسہ کی بغیر حجاب کی تصویر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر عروسہ اور اس کے گھر والوں کے خلاف زہریلی باتیں شروع ہو گئیں۔ ان میں سے زیادہ تر زہریلے ٹرول نے حجاب کی وجہ سے انہیں ماردینے کا مطالبہ تک کیا۔ ایک زہریلے ٹرول نے تو حد کرتے ہوئے بےغیرت… پردہ نہیں کیا… اس کی گردن کاٹ دو۔۔۔ اس طرح کے الفاظ استعمال کیے۔

      ’لڑکی گلدستے کی حقدار ہے، اینٹ پتھر کی نہیں‘
      عروسہ نے کچھ صحافیوں کو بتایا کہ میرا مذہب، میرا حجاب اور میرا اللہ میرے ذاتی مسائل ہیں۔ میں کیا پہنوں یا نہ پہنوں، اگر وہ میرے مذہب کی عظمت کو مانتے ہیں تو لوگ پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے ان تبصروں پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن میرے والدین صدمے سے گزر رہے ہیں۔ زیادہ تر مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکی گلدستے کی مستحق ہے، اینٹ اور پتھر کی نہیں۔ وہ ہماری بیٹی ہے اور اس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ اس کی کامیابی نے کچھ خود غرض اور دھوکے باز لوگوں کو تکلیف دی ہے۔

      اسی دوران ایک استاد غلام رسول نے کہا کہ اگر انہیں حجاب سکھانا ہے تو والد یا بھائی کے مشورے سے دی جا سکتی ہے۔ مقامی اسلامی اسکالرز نے ان آن لائن، بے بنیاد تبصروں کی مذمت کی ہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں دارالعلوم رحیمیہ کے مفتی عظمت اللہ نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ اسلام سوشل میڈیا پر ٹرولنگ یا فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بھی کہا کہ اسلام کسی پرتشدد کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ مقامی ماہرین نفسیات اور سماجی ماہرین نے عروسا کی کامیابی کی کہانی میں اس کی نظر آنے والی تصویر کی بنیاد پر کی گئی پرتشدد تبصروں کی مذمت کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: