اے ایم یومیں ہنگامہ کیوں ہے برپا، جناح اورترنگا یاترا سے لے مندرکی تعمیر کا مطالبہ کرنے تک، پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ایف آئی آرمیں الزام لگایا گیا ہے کہ اے ایم یوطلبا نے پروگرام کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں ایک جلوس نکالا، جس میں 'ہندوستان مخالف' نعرے لگائے گئے تھے۔

Feb 14, 2019 08:15 PM IST | Updated on: Feb 14, 2019 08:28 PM IST
اے ایم یومیں ہنگامہ کیوں ہے برپا، جناح اورترنگا یاترا سے لے مندرکی تعمیر کا مطالبہ کرنے تک، پڑھیں تفصیلی رپورٹ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: فائل فوٹو

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) ایک بارپھرتنازعہ میں ہے اوریونیورسٹی کے 14 طلبا کے خلاف 'ملک سے غداری' جیسے سنگین دفعات میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ علی گڑھ پولیس  کے ایس پی کا کہنا ہے کہ اے ایم یو میں پڑھنے والے ایسے ہی جرائم پیشہ والے 56 دیگرطلبا کے خلاف عدالت سے غیرضمانتی وارنٹ مانگا گیا ہے اورانہیں بھی جلد ہی گرفت میں لیا جائے گا۔

دوسری جانب اے ایم یوانتظامیہ طلبا کے ساتھ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا الزام ہے کہ طلبا کے خلاف مقدمہ باہرکے لوگوں نے درج کرایا ہے اورانتظامیہ نے بھی کچھ لوگوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ فی الحال یونیورسٹی میں ہونے والے سبھی پروگراموں کو منسوخ کردیا گیا ہے اورانٹرنیٹ خدمات پربھی 24 گھنٹے کے لئے پابندی لگادی گئی تھی۔

ملک سے غداری کا مقدمہ کیوں؟

علی گڑھ پولیس نے بتایا کہ یونیورسٹی کیمپس میں ملک مخالف نعرے بازی کرنے کے معاملے میں 14 طلبا کے خلاف ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آرمیں اے ایم یوطلبہ یونین صدرسلمان امتیاز، سکریٹری حذیفہ عامر، نائب صدرحمزہ سفیان اورسابق طلبہ یونین سکریٹری ندیم انصاری کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یوا مورچہ کے مقامی لیڈرمکیش سنگھ کی طرف سے کی گئی شکایت کے بعد پولیس نے ان طلبا کے خلاف ایف آئی آردرج کی ہے۔ ایف آئی آرمیں الزام لگایا گیا ہے کہ ان سبھی طلبا نے پروگرام کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں ایک جلوس نکالا جس میں 'ہندوستان مخالف' نعرے لگائے گئے تھے۔ ایس پی علی گڑھ آکاش کلہری نے بتایا کہ اے ایم یو میں ماحول بگاڑنے والے کئی طلبا کا پتہ لگایا گیا ہے اور56 ایسے طلبا ہیں، جن پرپہلے سے مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ ان طلبا کوگرفتارکرنے کے لئے عدالت سے غیرضمانتی وارنٹ نکلوایا جارہا ہے۔

کیسے شروع ہوا ہنگامہ؟

غورطلب ہے کہ اے ایم یوطلبہ یونین نے منگل کوسوشل سائنس فیکلٹی کے کانفرنس ہال میں کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی میٹنگ بلائی تھی۔ اس پروگرام میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈراوررکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اویسی کے یونیورسٹی کیمپس میں آنے کی طلبا کے ایک دوسرے گروپ  کے ذریعہ مخالفت کی جارہی تھی۔ مخالفت کررہے طلبا کے گروپ کی قیادت اجے سنگھ اورمکیش لودھی کررہے تھے۔ اس دوران طلبا کے دو گروپوں میں مارپیٹ ہوگئی۔ amu1 اے ایم یوطلبہ یونین لیڈر کا الزام ہے کہ اجے سنگھ اورمکیش نے یونیورسٹی کے طلبا کو نہ صرف پیٹا بلکہ فائرنگ بھی کی۔ دوسری جانب اجے سنگھ کا الزام ہے کہ کچھ طلبا نے نہ صرف میڈیا کے ساتھ نازیبا سلوک کیا بلکہ یونیورسٹی میں گھوم گھوم کرمبینہ طورپرملک مخالف نعرے لگائے۔ اجے کا الزام ہے کہ کچھ طلبا نے پاکستان کی حمایت میں بھی نعرے لگائے تھے۔ بتادیں کہ اجے سنگھ بہرولی سے بی جے پی ممبراسمبلی دلویرکے پوتے ہیں اوربی جے پی یوا مورچہ میں کافی سرگرم ہیں۔ amu2 اجے سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم صرف اویسی کے کیمپس میں آنے کی مخالفت کررہے تھے اوران کے نہ آنے کی خبرملنے کے بعد واپس لوٹ گئے تھے۔ اجے نے کہا کہ جیسے ہی میں گھرپہنچا تومجھے خبرملی کہ طلبا کا ایک گروپ میرے ساتھیوں کے ساتھ مارپیٹ کررہا ہے۔ میں شکایت کرنے کے لئے پراکٹرآفس گیا توان طلبا نے میرے ساتھ بھی بدتمیزی کرنی شروع کردی۔ میں نے رجسٹرارسے بھی اس کی شکایت کی تھی، لیکن کوئی قدم نہ اٹھایا جاتا دیکھ کرمیں ایف آئی آرکرنے کے لئے مجبورہوا۔  

میڈیا کے ساتھ ہنگامہ؟

بتادیں کہ نجی نیوزچینل ری پبلک کی ایک ٹیم کے ساتھ بھی اس دوران نازیبا سلوک کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں چینل کی شکایت کے بعد یونیورسٹی کے سیکورٹی آفیسرکے خلاف بھی ایک معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ری پبلک کی رپورٹرنلنی شرما کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کی سیکورٹی ٹیم کے ایک شخص کے اکساوے کے بعد ان کی ٹیم کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔ نلنی نے ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ الزام لگایا تھا۔ حالانکہ اے ایم یوطلبہ یونین کے صدرمحمد سلمان امتیازکا الزام ہے کہ ری پبلک کی ٹیم بغیراجازت کے کیمپس میں اندرگھس گئی تھی، اس کے علاوہ وہ اپنے پروگرام میں اے ایم یوکو 'دہشت گردوں کا ادارہ' کہہ کرخطاب کررہی تھی، جس سے طلبا ناراض ہوگئے۔

بہرحال اس پورے واقعہ کا تین ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہورہا ہے۔ پہلی ویڈیوری پبلک نے خود چلائی ہے، جس میں اے ایم یوکی سیکورٹی ٹیم زبردستی کیمرے کو ہٹاتی نظرآرہی ہے، اسی واقعہ کا ایک اورویڈیواے ایم یوطلبا نے بھی شیئرکیا ہے، جس میں سیکورٹی افسراطمینان اورسنجیدگی سے ری پبلک ٹیم کوپی آراویا پراکٹرسے اجازت لے کرآنے کےلئے کہہ رہے ہیں، لیکن رپورٹراسے نظراندازکررہے ہیں۔ ایک تیسری ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے، جس میں طلبا کی ایک بھیڑری پبلک کے کیمرہ مین کو پیٹتی ہوئی نظرآرہی ہے۔

بہرحال اے ایم یوکے پی آراوعمرپیرزادہ الزام لگاتے ہیں کہ کچھ باہرلوگ مسلسل یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اورایسے شرپسند عناصرکے خلاف شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں جو پروگرام منعقد کیا گیا تھا، اس میں میڈیا کو نہیں مدعو کیا گیا تھا، اس کے باوجود بھی اگرکسی کوپروگرام کور کرنا تھا تو اسے انتظامیہ سے اجازت لینی چاہئے تھی۔ پیرزادہ کے مطابق یونیورسٹی کے کچھ قوانین وضوابط ہیں، جن پرعمل کرنا سبھی کے لئے ضروری ہے۔ کسی بھی میڈیا کو اگر کوئی اسٹوری کرنی ہے، خاص طورپرکچھ شوٹ کرنا ہے تواسے تحریری اجازت پراکٹرآفس سے لینی ہوتی ہے، لیکن جولوگ میڈیا بین کا دعویٰ کررہے ہیں، ان سے پوچھئے کیا انہوں نے کیمپس میں شوٹ کرنے کی اجازت لی تھی۔  

تنازعہ ختم ہی نہیں ہورہا ہے

گزشتہ سال محمد علی جناح کی ایک تصویرکولے کربھی علی گڑھ مسلم یونیوسٹی میں ایک ماہ تک ہنگامہ ہوتارہا۔ اس دوران بھی علی گڑھ سے بی جے پی ممبرپارلیمنٹ ستیش گوتم اورممبرپارلیمنٹ مہیش گری نے یونیورسٹی کے ایک ہال میں محمد علی جناح کی تصویرلگے ہونے کی مذمت کی تھی، اس کے بعد ستیش گوتم نے اے ایم یوانتظامیہ کو ایک خط لکھ کراس بارے میں سوال پوچھا تھا۔ یہ خط میڈیا میں آگیا، جس کے بعد دو مئی 2018 کو کچھ شرپسند عناصرنے مبینہ طورپریونیورسٹی کے گیٹ پرنازیبا نعرے بازی کی اورپتلہ نذرآتش کیا، س کے بعد مارپیٹ ہوئی اوریونیورسٹی 15 دنوں تک بند رہی۔ اس دوران بھی اس تشدد میں ہندو جاگرن منچ، ہندو واہنی اوراے بی وی پی کے کارکنان کا نام سامنے آیا تھا۔

مقامی صحافی دھیریندرسنگھ کہتے ہیں کہ اے ایم یوکومسلسل تنازعات میں بنائے رکھنے کے پیچھے سیاسی طاقتیں کام کررہی ہیں۔ مسلسل ایسے موضوعات کو اٹھایا جارہا ہے جس سے مذہبی بنیاد پرووٹوں کو پولرائزکرنے میں مدد مل سکے۔ دھیریندرکا ماننا ہے کہ اے ایم یوکے ذریعہ پورے ملک میں ایک پیغام بھیجا جارہا ہے۔ دھیریندرمدعوں کی ایک فہرست بھی بتاتے ہیں، جن کی بنیاد پراے ایم یوکوہدف بنایا جارہا ہے۔  

جس میں بی جے پی ممبرپارلیمنٹ ستیش گوتم کے ذریعہ اقلیتی ادارہ ہونے کے سبب اے ایم یومیں ریزرویشن نہ ہونے سے ہندو دلت بھائیوں کونقصان ہونے کی بات کہنا، محمد علی جناح کی تصویرہونے پراعتراض کرنا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ہال میں ایسے ہرشخص کی تصویرہے، جنہیں اے ایم یوطلبہ یونین نے تاحیات رکنیت دی تھی۔ کہا گیا کہ راجہ مہندر پرتاپ نے یونیورسٹی کو زمین دی تھی، لیکن انہیں عزت نہیں ملا، یہ بھی سراسرجھوٹ ہے کیونکہ اے ایم یولائبریری کے ہال میں راجا مہندرپرتاپ  کی تصویرلگی ہوئی۔

گزشتہ سال ان کے تعاون کولے کرایک سمپوزیم بھی منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تنازعہ کے مرکز اجے سنگھ جنوری میں بھی تنازعہ میں آگئے تھے جب انہوں نے اجازت کے بغیراے ایم یوکیمپس میں ترنگا یاترا نکالی تھی۔ اسی طرح بی جے پی یوتھ ونگ نے اے ایم یوکے وائس چانسلرکو ایک خط لکھا تھا، جس میں کیمپس کے اندرہندو طلبہ کے لئے 'مندر' تعمیرکرنے کے لئے زمین مہیا کرانے کی اپیل کی گئی تھی، ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی گئی تھی کہ اگر15 دنوں کے اندرزمین نہیں دی گئی توتنظیم عوام کے تعاون سے مندرتعمیرکرنے کے لئے مجبورہوگی۔

انکت فرانسیس کی رپورٹ

Loading...