ہوم » نیوز » وطن نامہ

جموں وکشمیر:2ماہ کے بعد فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ سےآج ملیں گے این سی کےلیڈران

صوبائی صدر دیوندرسنگھ راناکی قیادت میں یہ وفد سرینگرجائیگا۔آپ کوبتادیں کہ فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ دفعہ 370 کی منسوخی کےایک دن پہلےہی حراست میں لےلیے گیےتھے۔وہیں کئی دیگرسیاسی لیڈران بھی اب بھی نظر بندہیں

  • Share this:
جموں وکشمیر:2ماہ کے بعد فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ سےآج ملیں گے این سی کےلیڈران
جموں وکشمیر: فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ سےآج ملیں گے این سی کےلیڈران۔(تصویر:نیوز18)۔

جموں کشمیرسےدفعہ370 کی منسوخی کےبعدآج پہلی بارکسی سیاسی پارٹی کا وفد سرینگر جائیگا ۔ نیشنل کانفرنس کاوفد جموں کشمیرکےسابق وزراءاعلیٰ فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ سےملاقات کرنےسرینگرجائیگا۔صوبائی صدر دیوندرسنگھ راناکی قیادت میں یہ وفد سرینگر جائیگا ۔ آپ کوبتادیں کہ فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ دفعہ 370 کی منسوخی کےایک دن پہلےہی حراست میں لےلیے گیےتھے۔وہیں کئی دیگرسیاسی لیڈران بھی اب بھی نظر بندہیں

جموں وکشمیر انتظامیہ نے اتوار کے روز جموں سے نیشنل کانفرنس کے وفد کودونوں سابق وزراء اعلیٰ سے ملاقات کی اجازت دی۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان مدن منٹو نے کہا ، "صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا اور پارٹی کے سابق ممبران اسمبلی کی قیادت میں ایک وفد اتوار کی صبح جموں سے سرینگرروانہ ہوگا۔" نیشنل کانفرنس کے رہنما رانا نے اس سلسلے میں گورنر ستیپال ملک سے اجازت طلب کی۔

نیشنل کانفرنس : 15 رکنی وفد پہنچے گا سری نگر

نیشنل کانفرنس کے رہنما رانا نے اجازت ملنے کے بعد بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کا 15 رکنی وفد اتوار کو سری نگر کا دورہ کرے گا۔ تمام سابق ایم ایل اے اس وفد میں شامل ہیں۔جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے ایک دن پہلے یعنی، 4 اگست کی درمیانی شب ، فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کونظربندکردیاگیاتھا۔81 سالہ فاروق عبد اللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سری نگرکی رہائش گاہ پرنظربندرکھا گیاہے۔ وہیں عمر عبداللہ کوایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ وادی کے بڑے لیڈر اب بھی ہیں نظربند حکومت نے کشمیر کی بیشتر سیاسی قیادت کونظربندرکھاہے، جن میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون بھی شامل ہیں،تاکہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں پرقابوپایاجاسکیں۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان منٹو نے بتایا کہ پارٹی کے دونوں اعلی رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ 2 دن قبل صوبہ جموں کے سینئر عہدیداروں اور ضلعی صدور کی ایک میٹنگ میں لیا گیا تھا۔ اس وفد میں جموں کا وفد بھی ہوگا شامل جموں میں نیشنل کانفرنس کے لیڈروں پرعائد پابندیوں کو پہلے ہی ختم کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد جموں کے رہنماؤں کورہا کردیاگیاہے ،لیکن وادی کشمیرمیں جلد ہی ایسا ہونے کاامکان نظرنہیں آرہاہے۔ جمعرات کے روز گورنر جموں و کشمیر کے مشیر فاروق خان نے کہا ہے کہ کشمیری رہنماؤں کو شخصی طورپرجائزہ لینے کے بعد ہی ایک ایک کرکے رہا کیا جائے گا۔
First published: Oct 06, 2019 09:12 AM IST