உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bihar:سارن میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 16 لوگوں کی ہوئی موت، متعدد کی حالت تشویشناک، مکیر SHO معطل

    بہار، جہاں اپریل 2016 سے پوری طرح سے شراب بندی لاگو ہے۔ وہیں، پچھلے کچھ مہینوں میں ہی شراب کی اسمگلنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ اس درمیان، سارن کے ایس پی سنتوش کمار نے کہا، ’’جمعرات کی دیر رات، پولیس کی ایک ٹیم نے شراب بنانے والے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اس کے مالک بیرندر عرف مینا مہتو، اس کے ساتھی بنارسی رائے اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔

    بہار، جہاں اپریل 2016 سے پوری طرح سے شراب بندی لاگو ہے۔ وہیں، پچھلے کچھ مہینوں میں ہی شراب کی اسمگلنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ اس درمیان، سارن کے ایس پی سنتوش کمار نے کہا، ’’جمعرات کی دیر رات، پولیس کی ایک ٹیم نے شراب بنانے والے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اس کے مالک بیرندر عرف مینا مہتو، اس کے ساتھی بنارسی رائے اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔

    بہار، جہاں اپریل 2016 سے پوری طرح سے شراب بندی لاگو ہے۔ وہیں، پچھلے کچھ مہینوں میں ہی شراب کی اسمگلنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ اس درمیان، سارن کے ایس پی سنتوش کمار نے کہا، ’’جمعرات کی دیر رات، پولیس کی ایک ٹیم نے شراب بنانے والے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اس کے مالک بیرندر عرف مینا مہتو، اس کے ساتھی بنارسی رائے اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔

    • Share this:
      سارن: بہار (Bihar) کے سارن (Saran) ضلع میں زہریلی شراب (Poisoneous Liquor) پینے سے امواتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جہاں پر لوگوں کی لگاتار موت ہورہی ہے۔ وہیں، امنور اور مکیر کے بعد اب مڈھورا کے کرن پور میں بھی زہریلی شراب سے 3 افراد کی موت ہونے کی خبر ہے۔ حالانکہ موت کے اعدادوشمار دھیرے دھیرے بڑھتے جارہے ہیں۔ ابھی تک سارن میں مجموعی طور پر 16 لوگوں کی زہریلی شراب پینے سے موت ہوچکی ہے۔ ایسے میں آدھا ردرجن لوگوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ اس واقعے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ وہیں، موت کی خبروں کے بعد پولیس علاقے میں چھاپے مار رہی ہے۔ ایسے میں فی الحال اس معاملے میں پولیس انتطامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے مکیر کے ایس ایچ او کو سسپنڈ کردیا ہے۔

      دراصل، بہار، جہاں اپریل 2016 سے پوری طرح سے شراب بندی لاگو ہے۔ وہیں، پچھلے کچھ مہینوں میں ہی شراب کی اسمگلنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ اس درمیان، سارن کے ایس پی سنتوش کمار نے کہا، ’’جمعرات کی دیر رات، پولیس کی ایک ٹیم نے شراب بنانے والے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اس کے مالک بیرندر عرف مینا مہتو، اس کے ساتھی بنارسی رائے اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیریندر کو شراب کی اسمگلنگ کے کم از کم چار مقدمات کا سامنا تھا اوروہ گزشتہ سال 23 دسمبر کو جیل سے رہا ہوا تھا۔

      شراب اسکینڈل میں مکیر ایس ایچ او معطل
      بتا دیں کہ جعلی شراب بنانے میں استعمال ہونے والے مواد کو ضبط کرنے کے بعد ایس پی نے مکیر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن انچارج راجیش پرساد اور جگدیش پور گاؤں کے چوکیدار کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔ ساتھ ہی چوکیدار کو بعد میں گرفتار کر کے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ ایس پی نے کہا کہ ان کا کردار اس بات کی زد میں آیا ہے کہ غیر قانونی شراب بنانے کا یونٹ ان کی ملی بھگت سے چلایا جاتا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ مرنے والے بیرندر ٹھاکر میں سے ایک کی بیوی ارمیلا دیوی نے انہیں مبینہ طور پر شراب کے ساتھ ایک پلاسٹک کا ڈبہ دکھایا، جسے اس کے شوہر جگدیش پور-جنتا بازار سے لا کر پیتے تھے۔ اسی وقت، امنور تھانہ علاقہ کے پرمانند پور چھپرا میں ناجائز شراب کا شکار متھیلیش سنگھ کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے شراب نوشی کی تھی اور جمعہ کی صبح خون کی الٹی کے بعد اسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: