உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sheikh Hasina: وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انٹرویو کے دوران کیا بڑا انکشاف، کہا ’دہلی میں خفیہ طور پر رہتے تھے‘

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان کی مدد کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان کی مدد کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔

    Bangladesh Prime Minister Sheikh Hasina: شیخ حسینہ نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران بنگلہ دیش کی تاریخ کے سیاہ ترین تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میرے شوہر ملک سے باہر تھے، اس لیے میں ایک ہی گھر میں رہتی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Bangladesh
    • Share this:
      بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ (Sheikh Hasina) نے اتوار کے روز بڑا انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے والد شیخ مجیب الرحمان (Sheikh Mujibur Rehman) کو قتل کرنے والوں سے بچنے کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ دہلی کے پنڈارا روڈ میں خفیہ طور پر رہتی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح ہندوستانی حکومت نے ان کی مدد کی پیشکش کی تھی جبکہ شرپسند لوگ ان کے خاندان کے تمام افراد کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود ہندوستانی حکومت نے ان کی مدد کی، جس کی وجہ سے وزیر اعظم شیخ حسینہ محفوظ رہی۔

      شیخ حسینہ نے نم آنکھوں کے ساتھ سال 1975 کا وہ واقعہ بیان کیا جب انہیں جرمنی میں اپنے ایٹمی سائنسدان شوہر کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کو چھوڑنا پڑا۔ حسینہ اور ان کی بہن کو رخصت کرنے کے لیے ان کے اہل خانہ ایئرپورٹ پر آئے تھے۔ یہ وہ واقعہ تھا، جب انھوں نے اپنے والدین سے آخری ملاقات کی تھی۔

      شیخ حسینہ نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران بنگلہ دیش کی تاریخ کے سیاہ ترین تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میرے شوہر ملک سے باہر تھے، اس لیے میں ایک ہی گھر میں رہتی تھی۔ تو اس دن سب وہاں موجود تھے۔ میرے والد، والدہ، میرے تین بھائی، دو بھابھیوں کے علاوہ سب وہاں موجود تھے۔ وہ ہمیں رخصت کرنے ایئرپورٹ پر آئے اور ہم نے والد، والدہ سے ملاقات کی۔ وہ آخری دن تھا۔

      چند دن بعد 15 اگست کو شیخ حسینہ کو اپنے والد شیخ مجیب الرحمان کے قتل کی خبر ملی۔ انھیں اپنے خاندان کے مزید افراد کو پھانسی دینے کے بارے میں معلوم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ واقعی ناقابل یقین تھا کہ کوئی بنگالی ایسا کر سکتا ہے۔ اور پھر بھی ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ واقعی کیسے ہوا؟ صرف ایک بغاوت ہوئی اور پھر ہم نے سنا کہ میرے والد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ خاندان کے تمام افراد سے بھی انتقام لیا گیا اور انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      ’’نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی اور جاوید اختر ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے سلیپر سیل کے ممبر‘‘ Narottam Mishra

      بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے کہا کہ مسز اندرا گاندھی نے فوری طور پر معلومات بھیجیں کہ وہ ہمیں تحفظ اور پناہ دینا چاہتی ہیں۔ ہم نے یہاں (دہلی) واپس آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمارے ذہن میں تھا کہ اگر ہم دہلی جائیں گے تو دہلی سے ہم اپنے ملک واپس جا سکیں گے اور پھر ہم یہ جان سکیں گے کہ خاندان کے کتنے افراد ابھی تک زندہ ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Pakistani Taliban: اسلام آبادکےساتھ پاکستانی طالبان نےجنگ ​​بندی کی ختم، معاہدےکی خلاف ورزی کالگایاالزام



      حسینہ اس کے بعد دہلی واپس آگئی اور انہیں سخت حفاظتی انتظامات میں رکھا گیا کیونکہ ان کے والد کو قتل کرنے والوں نے دوسرے رشتہ داروں کے گھروں پر بھی حملے کیے اور ان کے کچھ رشتہ داروں کو بھی قتل کیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: