ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلور یونیورسٹی کے 196طلباء کوگولڈ میڈل، 11 مسلم لڑکیوں نے حاصل کئے گولڈ میڈل

بنگلور یونیورسٹی کے 55 ویں کانوکیشن میں 196 طلباء و طالبات کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ان میں 11 مسلم لڑکیاں شامل تھیں۔ بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر وینو گوپال کی موجودگی میں ملک کے ممتاز سائنس دان، خلائی ادارے ISRO کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیوان کے ہاتھوں منتخب طلباء و طالبات کو گولڈ میڈل سے سرفراز کیا گیا۔

  • Share this:
بنگلور یونیورسٹی کے 196طلباء کوگولڈ میڈل، 11 مسلم لڑکیوں نے حاصل کئے گولڈ میڈل
بنگلور یونیورسٹی کے 196طلباء کوگولڈ میڈل، 11 مسلم لڑکیوں نے حاصل کئے گولڈ میڈل

بنگلورو: تعلیم کے میدان میں مسلم لڑکیاں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس کی ایک جھلک بنگلور یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ میں دیکھنے کو ملی۔ بنگلور یونیورسٹی کے 55 ویں کنوکیشن میں 196 طلباء و طالبات کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ان میں 11 مسلم لڑکیاں شامل تھیں۔ بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر وینو گوپال کی موجودگی میں ملک کے ممتاز سائنس دان، خلائی ادارے ISRO کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیوان کے ہاتھوں منتخب طلباء و طالبات کو گولڈ میڈل سے سرفراز کیا گیا۔


گولڈ میڈل پانے والی مسلم لڑکیوں کے نام کچھ یوں ہیں۔ اردو ایم اے میں حنا کوثر، ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس میں فاضلہ بیگم، ماسٹر آف ایجوکیشن میں نور عائشہ، بی ایس سی شعبہ میں رخسانہ ایم، آمینہ نواز عمرہ، فرحت النساء این، رومانہ آسیہ، بی کام شعبہ میں رحمت النساء، عارفہ سیدآر، شفاء فاطمہ اور فرحہ سلطانہ گولڈ میڈل پانے والی زیادہ تر مسلم لڑکیوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے۔ لیکن ان طالبات نے اپنی انتھک محنت، لگن اور کوششوں سے ثابت کیا  ہے کہ کامیابی حاصل کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان میں کئی لڑکیوں نے حجاب کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کی ہے۔



مسلم لڑکیوں میں سب سے زیادہ یعنی 8 گولڈ میڈلس حاصل کرنے والی طالبہ رحمت النساء نے کہا کہ 15 سال قبل انکے والد کا انتقال ہوا۔ گھر میں ڈھیر ساری پریشانیاں تھیں۔ لیکن انکے والد انہیں اور انکی سبھی بہنوں کو ہمیشہ پڑھائی کی جانب مائل کیا کرتے تھے۔ رحمت النساء نے کہا کہ انکی دیگر بہنوں نے کچھ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن وہ اپنے مرحوم والد کے خواب کو ہر حال میں پورا کرنا چاہتی تھیں۔ کئی ساری مشکلات کے باوجود انہوں نے خوب پڑھائی کی، پہلی تا ساتویں جماعت تک کی تعلیم بنگلورو کے ناگوار علاقے  میں موجود اردو میڈیم اسکول میں مکمل کی۔ ہائی اسکول کی تعلیم نجم السحر ادارے میں پائی اور پی یو سی سے لیکر ڈگری تک کی تعلیم بنگلورو کے فریزر ٹاؤن میں واقع گورنمنٹ کالج میں مکمل کی اور آج انہیں بی کام کے شعبہ میں پہلا رینک حاصل کرنے پر 8 گولڈ میڈلس سے نوازا گیا ہے۔ رحمت النساء نے کہا کہ وہ آئی اے ایس افسر بننا چاہتی ہیں اس کیلئے انکی تیاری بھی جاری ہے۔


ایم ایڈ یعنی ماسٹر آف ایجوکیشن میں پہلا رینک حاصل کرنے والی نور عائشہ شادی شدہ ہیں۔ انکا ایک بچہ بھی ہے۔ دو سال قبل والد دنیا سے گزر چکے ہیں۔ نور عائشہ نے کہا کہ اس مقام تک پہنچنا انکے لئے آسان نہ تھا۔ بنگلورو کے قریب ملباگل شہر سے تعلق رکھنے والی نور عائشہ کہتی ہیں کہ ان کے والد ایک چھوٹے تاجر تھے۔ انکی پڑھائی میں کبھی کمی ہونے نہ دی۔ شادی کے بعد شوہر نے بھی حوصلہ بڑھایا اور تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔ لہذا اہل خانہ کے مکمل تعاون اور مدد کی وجہ سے انہوں نے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔


بی ایس سی ہوم سائنس میں دو گولڈ میڈل اور نقد انعام پانے والی آمینہ نواز عمرہ نے اپنے والد کے ساتھ کانوکیشن کی تقریب میں حصہ لیا۔  آمینہ نے کہا کہ خواتین کبھی بھی اپنے آپ کو کم نہ سمجھیں۔ سماج کو کچھ دینے کی فکر کریں۔ آمینہ نواز کے والد ڈاکٹر محمد عمران انڈو مڈل ایسٹ چیمبر آف کامرس کے صدر ہیں۔ بیٹی کے اس کارنامے پر ڈاکٹر محمد عمران نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس بات پر ہے کہ انکی بیٹی نے پہلی جماعت سے ڈگری تک کی تعلیم بہ حجاب حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا بنگلورو کے بشپ کاٹن عیسائی کالج میں انکی بیٹی نے ڈگری کی تعلیم حاصل کی لیکن ہمیشہ حجاب کی پابندی کے ساتھ کالج جایا کرتی تھیں۔ ڈاکٹر محمد عمران نے کہا کہ پردہ یا حجاب خواتین کی ترقی کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں ہیں۔ ملت کی لڑکیاں حجاب اور پردہ کے ساتھ اعلی سے اعلی عصری تعلیم حاصل کرسکتی ہیں ۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے درمیان موجود ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 30, 2021 11:56 PM IST