உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب اسمبلی انتخابات: 22 کسان تنظیموں نے بنائی پارٹی، سبھی 117 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان، عام آدمی پارٹی سے ہوسکتا ہے اتحاد

    Punjab Elections Farmer Unions:  کسانوں کی تقریباً 22 یونین تنظیمیں، جو جوائنٹ کسان مورچہ کا حصہ تھیں اور انہوں نے تین متنازعہ قوانین بلوں کے خلاف سال بھر کے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا، اب پنجاب اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے مقصد سے ایک سیاسی اکائی سینکت سماج مورچہ بنانے کے لئے ایک ساتھ آئے ہیں۔

    Punjab Elections Farmer Unions:  کسانوں کی تقریباً 22 یونین تنظیمیں، جو جوائنٹ کسان مورچہ کا حصہ تھیں اور انہوں نے تین متنازعہ قوانین بلوں کے خلاف سال بھر کے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا، اب پنجاب اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے مقصد سے ایک سیاسی اکائی سینکت سماج مورچہ بنانے کے لئے ایک ساتھ آئے ہیں۔

    Punjab Elections Farmer Unions:  کسانوں کی تقریباً 22 یونین تنظیمیں، جو جوائنٹ کسان مورچہ کا حصہ تھیں اور انہوں نے تین متنازعہ قوانین بلوں کے خلاف سال بھر کے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا، اب پنجاب اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے مقصد سے ایک سیاسی اکائی سینکت سماج مورچہ بنانے کے لئے ایک ساتھ آئے ہیں۔

    • Share this:
      چندی گڑھ: کسانوں کی تقریباً 22 یونین تنظیمیں، جو جوائنٹ کسان مورچہ کا حصہ تھیں اور انہوں نے تین متنازعہ قوانین بلوں کے خلاف سال بھر کے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا، اب پنجاب اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے مقصد سے ایک سیاسی اکائی سینکت سماج مورچہ بنانے کے لئے ایک ساتھ آئے ہیں۔ پنجاب میں کسانوں کے سیاسی محاذ کی قیادت بی ایس راجے وال کریں گے۔ بھارتیہ کسان یونین (ڈکونڈا) اور بھارتیہ کسان یونین (لکھو وال) سمیت تین زرعی ادارے جلد ہی طے کریں گے کہ پارٹی میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔ وہ سبھی 117 سیٹوں سے الیکشن لڑیں گے۔ کسان لیڈروں نے ہفتہ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے۔

      زرعی قوانین کے خلاف سال بھر کے احتجاجی مظاہرہ اور آخر کار وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ان قوانین کو واپس لینے کے اعلان نے کسانوں کے لئے پنجاب اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اسٹیج تیار کیا۔ ایسا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس اہم الیکشن کو لڑنے کے اپنے بڑے فیصلے میں کسان ایسوسی ایشن عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ کسان لیڈروں نے کہا کہ ایسے کسی بھی اتحاد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

      32 کسان تنظیموں میں سے 22 نے کیا انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ

      الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے والے یہ 22 کسان تنظیمیں پنجاب کے ان 32 کسان تنظیموں میں سے ہیں، جنہوں نے تین مرکزی زرعی قوانین کے خلاف ایک سال سے زیادہ وقت تک چلے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا۔ کسان لیڈر ہرمیت سنگھ قادیان نے کہا کہ پنجاب میں آئندہ سال کی شروعات میں ہونے والے اسمبلی انتخابات لڑنے کے لئے جوائنٹ سماج مورچہ کی تشکیل کی گئی ہے۔

      کئی کسان ایسوسی ایشن نے کیا انتخابی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ

      دوسری طرف، کسان آندولن میں شامل رہے کئی کسان یونین جو کہ سنیکت کسان مورچہ تنظیم کا حصہ تھے، نے انتخابی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیرتی کسان ایسوسی ایشن، کرانتی کسان ایسوسی ایشن، بی کے یو کرانتی کاری، دوآبہ سنگھرش سمیتی، بی کے یو سدھو پور، کسان سنگھرش سمیتی اور جے کسان آندولن انتخابی میدان میں اترنے کے خلاف ہیں۔ انتخابی تشہیر کے لئے ایس کے ایم کے بینر کا استعمال ہونے کا امکان نہیں ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: