உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court Hearing: سی اے اے سمیت 220 عوامی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج، دو سال سے ہیں زیر التوا

    سی اے اے سمیت 220 عوامی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج، دو سال سے ہیں زیر التوا

    سی اے اے سمیت 220 عوامی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج، دو سال سے ہیں زیر التوا

    سپریم کورٹ 220 عوامی مفاد عامہ پر پیر کے روز سماعت کرسکتا ہے۔ ان میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی قانونی حیثیت کے خلاف دائر درخواستیں بھی شامل ہیں۔ تقریباً دو سال سے زیر التوا ان عرضیوں پر چیف جسٹس یویوللت اور ایس رویندر بھٹ کی بینچ سماعت کرے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ 220 عوامی مفاد عامہ پر پیر کے روز سماعت کرسکتا ہے۔ ان میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی قانونی حیثیت کے خلاف دائر درخواستیں بھی شامل ہیں۔ تقریباً دو سال سے زیر التوا ان عرضیوں پر چیف جسٹس یویوللت اور ایس رویندر بھٹ کی بینچ سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، 220 عرضیاں اس بینچ کے سامنے فہرست کیا گیا ہے۔

      عدالت عظمیٰ نے 18 دسمبر، 2019 کو ہوئی سماعت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر روک لگانے سے انکار کیا تھا۔ حالانکہ مرکز کو نوٹس جاری کرکے جنوری، 2020 کے دوسرے ہفتے تک اپنا موقف رکھنے کو کہا تھا۔ پھر کووڈ وبا میں سماعت نہیں ہوپائی۔ قابل ذکر ہے کہ سی اے اے کے تحت پڑوسی ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے 31 دسمبر، 2014 یا اس سے پہلے ہندوستان اور غیر مسلموں جیسے ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ، جین اور پارسی کو ہندوستان کی شہریت دی جاسکتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Jammu and Kashmir: آرٹیکل 370 نہ میں واپس دلا سکتا ہوں، نہ کانگریس، نہ پوار اور نہ ممتا- بارہمولہ میں بولے غلام نبی آزاد

      یہ بھی پڑھیں۔

      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں موجود ہے قرآن شریف کا نایاب نسخہ، حضرت علیؓ کے دست مبارک سے تحریر کیا گیا ہے قرآن

      عرضی میں کیا ہے؟

      انڈین مسلم لیگ کی عرضی میں سی اے اے کو بنیادی حقوق اور مساوات کی خلاف ورزی کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ یہ غیر قانونی مہاجرین کو شہریت دیتے وقت مذہب کی بنیاد پر بھید بھاو کرتا ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سی اے اے کو بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ عرضی کے مطابق، یہ قانون مذہبی اور جغرافیائی حالات کے دو طبقے بناتا ہے۔

      راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر منوج جھا، ترنمول رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا بھی سی اے اے کی آئینی حیثیت کو چیلنج دیا ہے۔ وہ ’دی وویمن آف انڈیا‘ کی ایک دیگر عرضی گھریلو تشدد متاثرین کے معاملے میں دائر ہے۔ کہا ہے کہ قانون بنے 15 سال ہوگئے، لیکن متاثرین کو موثر قانونی مدد نہیں مل پاتی۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: