ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لال قلعہ تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کو مل گئی ہیں ملزمین کی تصویریں! کارروائی کی تیاری

26 January Violence: کرائم برانچ نے فارینسک ایکسپرٹ کی مدد سے سیکڑوں ویڈیوز دیکھنے کے بعد ان کی شناخت کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تصویروں میں دیپ سدھو کی تصویر بھی شامل ہے ۔

  • Share this:
لال قلعہ تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کو مل گئی ہیں ملزمین کی تصویریں! کارروائی کی تیاری
لال قلعہ تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کو مل گئی ہیں ملزمین کی تصویریں! کارروائی کی تیاری

26 جنوری کو تاریخی لال قلعہ پر ہوئی ہنگامہ آرائی کے معاملہ میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 25 مشتبہ ملزمین کی تصویروں کے ذریعہ شناخت کی ہے ۔ کرائم برانچ نے فارینسک ایکسپرٹ کی مدد سے سیکڑوں ویڈیوز دیکھنے کے بعد ان کی شناخت کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تصویروں میں دیپ سدھو کی تصویر بھی شامل ہے ۔ بتادیں کہ 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے ٹریکٹر مارچ نکالا تھا ۔ اس دوران لال قلعہ پر جم کر ہنگامہ کیا گیا تھا ۔ دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی اس معاملہ کی جانچ کررہی ہے ۔


لال قعلہ تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے علاوہ عام لوگوں سے بھی ویڈیو مہیا کرانے کی اپیل کی تھی ۔ تاکہ لال قلعہ کے احاطہ میں تشدد کرنے والوں کی شناخت یقینی بنائی جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑی تعداد میں عام لوگوں نے بھی دہلی پولیس کو لال قلعہ کے واقعہ سے وابستہ ویڈیوز دئے تھے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے فارینسک ایکسپرٹ کے ساتھ مل کر ان ویڈیو اور حاصل تصویروں کی چھان بین کی اور 25 مشتبہ ملزمین کی شناخت کی ہے ۔ اب ان تصویروں کی مدد سے آگے کی کارروائی کرنے کی تیاری ہے ۔


مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو کاروائی سے آگاہ کیا


دریں اثنا مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران دہلی میں تشدد کے واقعات کو انجام دینے والے مظاہرین کے خلاف مناسب کاروائی کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں 43 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ مرکز نے بتایا کہ اس معاملہ میں مناسب اقدامات کیے گئے ہیں اور تشدد کے سلسلے میں 43 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن میں سے 13 دہلی پولیس کی اسپیشل سیل میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ کچھ ایف آئی آر غیر قانونی ریلی (روک تھام) کے تحت درج کی گئی ہیں جن میں مبینہ طور پر ’سکھ فار جسٹس‘ تنظیم کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بینچ مجرموں کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کو مناسب ہدایات دینے والی عرضی پر شنوائی کر رہی تھی۔ عرضی گذار شبھم اوستھی اور دو دیگر نے وکیل نارائن شرما کے ذریعے دارئر اپنی عرضی میں مرکز سے قومی پرچم اور آئین کی بے حرمتی کرنے والے قوانین کو مضبوط کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ بدمعاشوں کے درمیان سخت پیغام پہنچے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت سے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 05, 2021 07:47 AM IST