உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    2nd Global Covid-19 Summit:وزیراعظم مودی نے کہا،WTOاورWHOمیں بہتری ضروری، صحت سے متعلق ایمرجنسی چیلنجوں سے نمٹنے پر بھی دیا زور

    2nd Global Covid-19 Summit سے وزیراعظم مودی نے کیا خطاب۔

    2nd Global Covid-19 Summit سے وزیراعظم مودی نے کیا خطاب۔

    2nd Global Covid-19 Summit: پی ایم مودی کا یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان دوسرے ممالک کو خوراک کی سپلائی بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ کورونا وبا اور یوکرین روس جنگ کے بعد دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:2nd Global Covid-19 Summit:ہندوستان نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) جیسی کثیر القومی ایجنسیوں میں بڑی اصلاحات کے مطالبے کو دوہرایا ہے۔ جمعرات کو کورونا پر دوسری عالمی ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ صحت کے شعبے کے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مزید ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مضبوط سپلائی بھی قائم کرنا ہو گی اور ہر ایک کو دوائیوں تک رسائی کے قابل بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ پی ایم مودی امریکی صدر جو بائیڈن کی دعوت پر اس ورچوئل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سے پہلے یہ کانفرنس 22 ستمبر 2021 کو ہوئی تھی جس میں پی ایم مودی نے بھی شرکت کی تھی۔

      پی ایم مودی نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین، خاص طور پر ٹرپس (انٹرنیشنل کنونشن آن انٹلیکچوئل پراپرٹی رولز) کو مزید لچکدار بنانے کی ضرورت ہے۔ عالمی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید کارآمد بنانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کو اصلاح اور مضبوط کرنا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Anti-conversion Ordinance:کرناٹک میں تبدیلی مذہب مخالف قانون جلدہوگانافذ

      پی ایم مودی کا یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان دوسرے ممالک کو خوراک کی سپلائی بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ کورونا وبا اور یوکرین روس جنگ کے بعد دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Swathi Weapon Locating Radar :چین کے خلاف ہندوستانی فوج خرید رہی ہے ’سرچ رڈار‘SWATHI

      وزیر اعظم سے پہلے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے عالمی فورمز میں یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ ہندوستان خوراک کے بحران سے لڑنے میں دنیا کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے ڈبلیو ٹی او کو اپنے قوانین کو تبدیل کرنا ہوگا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: