உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pulwama Attack:وہ سیاہ دن جب رو پڑا تھا پورا ملک، دہشت گردوں نے CRPF کے 40 جوانوں کو بنایا تھا نشانہ

    Pulwama Attack:دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ فوجیوں کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔ اس حملے کو جیش کا بدلہ ماناگیا تھا۔ حملے سے دو دن قبل پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں جیش کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

    Pulwama Attack:دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ فوجیوں کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔ اس حملے کو جیش کا بدلہ ماناگیا تھا۔ حملے سے دو دن قبل پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں جیش کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

    Pulwama Attack:دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ فوجیوں کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔ اس حملے کو جیش کا بدلہ ماناگیا تھا۔ حملے سے دو دن قبل پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں جیش کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

    • Share this:
      پلوامہ:جموں و کشمیر میں پلوامہ حملے (Pulwama Attack) کی آج تیسری برسی ہے۔ 14 فروری 2019 کو سی آر پی ایف کا ایک قافلہ جموں سری نگر قومی شاہراہ سے تقریباً 2500 فوجیوں کو لے کر 78 بسوں میں گزر رہا تھا۔ اس دن بھی سڑک پر معمول کی نقل و حرکت تھی۔ سی آر پی ایف(CRPF)کا قافلہ پلوامہ پہنچا ہی تھا کہ سڑک کے دوسری طرف سے آنے والی ایک کار سی آر پی ایف کے قافلے کے ساتھ جا رہی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ جیسے ہی سامنے سے آنے والی SUV فوجیوں کے قافلے سے ٹکرا گئی، وہ پھٹ گئی۔ اس مہلک حملے میں سی آر پی ایف کے 40 بہادر جوان شہید ہوگئے تھے۔

      دھماکا اتنا زوردار تھا کہ کچھ دیر کے لیے ہر چیز دھوئیں میں بدل گئی۔ دھواں ہٹتے ہی وہاں کا منظر اتنا خوفناک تھا کہ پورا ملک اسے دیکھ کر رو پڑا۔ اس دن پلوامہ میں جموں سری نگر نیشنل ہائی وے پر فوجیوں کی لاشیں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔ چاروں طرف سے فوجیوں کے خون اور جسم کے ٹکڑے نظر آ رہے تھے۔ سپاہی اپنے ساتھیوں کی تلاش میں مصروف تھے۔ فوج نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمی بہادروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔

      جیش نے ٹیکسٹ میسیج بھیج کر حملے کی لی تھی ذمہ داری
      حملے کے بعد سی آر پی ایف افسر نے اس حملے کی معلومات دی تھی۔ انہوں نے اس وقت بتایا تھا کہ قافلے میں تقریباً 70 بسیں تھیں جن میں سے ایک بس حملے کی زد میں آگئی۔ یہ قافلہ جموں سے سری نگر جا رہا تھا۔ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ دہشت گرد تنظیم جیش نے ٹیکسٹ میسج بھیج کر اس حملے کی ذمہ داری لی تھی۔ جیش نے یہ پیغام کشمیر کی نیوز ایجنسی جی این ایس کو بھیجا تھا۔

      جیش نے لیا تھا راتنی پورہ انکاونٹر کا بدلہ
      جب سی آر پی ایف کے جوانوں کو لے کر بس پلوامہ کے اونتی پورہ سے گزر رہی تھی، اسی وقت ایک کار بس سے ٹکرا گئی۔ یہ گاڑی پہلے ہی ہائی وے پر کھڑی تھی۔ جیسے ہی بس یہاں پہنچی زور دار دھماکہ ہوا۔ جس جگہ پر حملہ ہوا وہاں سے سری نگر کا فاصلہ صرف 33 کلو میٹر تھا اور قافلے کو پہنچنے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ فوجیوں کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔ اس حملے کو جیش کا بدلہ ماناگیا تھا۔ حملے سے دو دن قبل پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں جیش کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: