உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سونی پت: 4 نوجوانوں نے 2 نابالغ بہنوں سے کی اجتماعی آبروریزی، چلانے پر پلایا زہر، دونوں کی موت

    Gang Rape in Sonipat: پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، دونوں لڑکیوں کے ساتھ پہلے اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں زہریلی دوا پلا دی گئی۔

    Gang Rape in Sonipat: پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، دونوں لڑکیوں کے ساتھ پہلے اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں زہریلی دوا پلا دی گئی۔

    Gang Rape in Sonipat: پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، دونوں لڑکیوں کے ساتھ پہلے اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں زہریلی دوا پلا دی گئی۔

    • Share this:
      سونی پت: ہریانہ کے سونی پت ضلع کے کنڈلی تھانہ علاقے کے ایک گاوں میں دو نابالغ بہنوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی (Gang Rape) کی گئی اور پھر ان کو فصلوں میں چھڑکاو والی زہریلی دوا پلا دی گئی۔ حالت بگڑنے پر ان کو دہلی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت (Death) ہوگئی۔ فیملی کے لوگون نے پولیس کو سرپدنش سے موت ہونے کی اطلاع دی تھی۔ شک ہونے پر پولیس نے پوسٹ مارٹم کرایا تو اجتماعی آبروریزی کرنے کے بعد زہریلی دوا کے اثر سے موت ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔

      پولیس نے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر پوچھ گچھ کی تو لڑکیوں کی ماں نے چار نوجوانوں کے خلاف اجتماعی آبروریزی اور قتل کی شکایت پولیس کو دی۔ ملزم نوجوانوں نے لڑکیوں کی ماں کو منہ کھولنے پر فیملی سمیت انہیں قتل کرنے کی وارننگ دی تھی۔

      واضح رہے کہ کنڈلی تھانہ علاقے کے گاوں کے باہر کالونی بنی ہوئی ہے۔ اس میں کھیتوں میں کام کرنے والے کامگار رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک مکان میں ہی بہار کے رہنے والی فیملی رہتی ہے۔ فیملی میں شوہر - بیوی کے ساتھ ہی دو 14 اور 16 سال کی دو نابالغ لڑکی اور ان کے دو چھوٹے بھائی رہتے تھے۔ پاس کے مکان میں ہی بہار کے کچھ کامگار رہتے ہیں۔ پانچ اگست کی رات کو دونوں لڑکیوں کی حالت بگڑنے پر گھر والوں نے ان کو نریلا - دہلی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں پر اگلے دن ان کی موت ہوگئی۔

      سونی پت ضلع کے کنڈلی تھانہ علاقے کے ایک گاوں میں دو نابالغ بہنوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی (Gang Rape) کی گئی اور پھر ان کو فصلوں میں چھڑکاو والی زہریلی دوا پلا دی گئی۔
      سونی پت ضلع کے کنڈلی تھانہ علاقے کے ایک گاوں میں دو نابالغ بہنوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی (Gang Rape) کی گئی اور پھر ان کو فصلوں میں چھڑکاو والی زہریلی دوا پلا دی گئی۔


      لڑکیوں کی ماں نے گھر میں سوتے وقت دونوں لڑکیوں کو سانپ کے ڈسنے کی اطلاع پولیس کو دی۔ خاتون نے بتایا کہ سانپ کی پھپھکار سے اس کی آنکھ کھلی تھیں۔ لائٹ جلاکر دیکھا تو سانپ کمرے سے بھاگ رہا تھا۔ شک ہونے پر پولیس نے لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم کرایا۔ پیر کی شام کو پولیس کو پوسٹ مارٹم رپورٹ مل گئی۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں لڑکیوں کے ساتھ پہلے اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں زہریلی دوا پلائی گئی تھی۔

      لڑکیوں کے جسم پر جدوجہد کرنے، ناخن سے نوچنے اور چہرے کو دبانے کے نشان بھی پوسٹ مارٹم میں ملے۔ اس کے بعد پولیس لڑکیوں کی ماں کو تھانے لے آئی اور اس کو اعتماد میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ پڑوس میں رہنے والے ارون کمار، پھول چند، دُکھن پنڈت اور رام سہاگ نے اس کی بیٹیوں سے غلط کام کیا۔ رات میں کمرے کے باہر کھڑی بیٹیاں یکایک غائب ہوگئی تھیں۔ ملزم ان کو اپنے مکان میں کھینچ کر لے گئے تھے۔ اس کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ان کو ہمارے گھر پر ڈال گئے۔ ان کا جسم نیلا پڑنے لگا تھا۔ یہ معاملہ پولیس کی دانشمندی سے سامنے آیا ہے۔ چاروں ملزمین کے خلاف رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔ ان کا بہار کا پتہ بھی معلوم کیا جارہا ہے۔ ملزمین کو پکڑنے کے لئے دو پولیس ٹیم لگائی گئی ہیں۔ آس پاس کے لوگوں سے بھی حادثہ کی اطلاع لی گئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: