உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چینئی میں عجیب وغریب واقعہ: 41سالہ مریض کی3مرتبہ سرجری، اب جسم میں ہے 5گردے

    تین گردوں کی پیوند کاری کی اور مجموعی طور پر پانچ گردے لے کر اسپتال سے باہر چلا گیا۔

    تین گردوں کی پیوند کاری کی اور مجموعی طور پر پانچ گردے لے کر اسپتال سے باہر چلا گیا۔

    عام طور پر ایک مریض جو گردے کے دائمی عارضے میں مبتلا ہے وہ ایک بڑی پریشانی کا سامنا کرتا ہے کیونکہ گردے پیشاب کے ذریعے جسم کے فضلے کو فلٹر کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ عمل ڈائلیسس مشینوں کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے۔

    • Share this:
      ایک غیر معمولی معاملے میں چنئی سے تعلق رکھنے والے ایک 41 سالہ شخص نے تین گردوں کی پیوند کاری کی اور مجموعی طور پر پانچ گردے لے کر اسپتال سے باہر چلا گیا۔ شدید ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا شخص کا مدراس میڈیکل مشن میں تیسرا رینل ٹرانسپلانٹ ہوا۔ تاہم آپریشن کے بعد اس کے پہلے چیک کے بعد مدراس میڈیکل مشن کے طبی ماہرین نے کہا کہ مریض ٹھیک ہو رہا ہے۔

      تیسرے گردے کی پیوند کاری کا چارج سنبھالنے والے ڈاکٹر ایس سراوان نے یہ کوشش اس وقت کی جب مریض پہلے ہی ٹرانسپلانٹ کے دو ناکام طریقہ کار سے گزر چکا تھا۔اس سے پہلے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مریض کی دونوں سرجری ناکام ہوگئیں۔ دریں اثنا ماہرین کی ٹیم کو بھی محتاط رہنا پڑا کیونکہ مریض نے حال ہی میں ٹرپل بائی پاس سرجری کی تھی جس کے بعد کورونری دمنی کی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

      اس کا پہلا اور دوسرا ٹرانسپلانٹ اس کے بے قابو ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ناکام ہوگیا۔ چیزوں کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے اس نے مارچ میں ہمارے اسپتال میں دل کے بلاکس کی مرمت کے لیے ٹرپل بائی پاس سرجری کروائی۔

      کافی بحث و مباحثے کے بعد ڈاکٹروں کے خیال میں بہترین آپشن ٹرانسپلانٹ تھا۔ ابتدائی طور پر مریض کے جسم میں دو پیدائشی گردے اور دو ڈونر گردے تھے۔ جس کے بعد ڈاکٹروں کو پانچویں کے لیے جگہ تلاش کرنا پڑی۔

      پانچویں گردے کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے سراوانان نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ سرجن مریض سے غیر فعال گردوں کو نہیں نکالتے بلکہ خون بہنے کے خطرے کی وجہ سے جگہ بنانی پڑتی ہے۔

      اپنے میڈیکل ریکارڈز پر نظر دوڑاتے ہوئے مریض کی عمر صرف 14 سال تھی جب 1994 میں اس کا گردے فیل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی دوسری سرجری 2005 میں ہوئی اور 12 سال تک فعال رہی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اگلے چار سال تک مریض کو پٹی باندھنی پڑی یا ڈائلیسس مشین سے باندھنا پڑا جو کہ ہفتے میں تقریبا تین بار تھا۔

      عام طور پر ایک مریض جو گردے کے دائمی عارضے میں مبتلا ہے وہ ایک بڑی پریشانی کا سامنا کرتا ہے کیونکہ گردے پیشاب کے ذریعے جسم کے فضلے کو فلٹر کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ عمل ڈائلیسس مشینوں کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: