آرٹیکل 370 کی منسوخی : وادی کشمیرمیں 44 ویں بھی بند: مواصلاتی نظام پرپابندی جاری

وادی کشمیر میں منگل کے روز مسلسل 44 ویں دن بھی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی معطل رہی۔ وادی بھر میں دکانیں و تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل ہے۔

Sep 17, 2019 08:33 PM IST | Updated on: Sep 17, 2019 08:33 PM IST
آرٹیکل 370 کی منسوخی : وادی کشمیرمیں 44 ویں  بھی بند: مواصلاتی نظام پرپابندی جاری

جموں وکشمیر میں ناکہ بندی کا منظر۔(تصویر:اے پی)۔

جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئینی دفعہ 370اور دفعہ 35اے کے خاتمہ کے بعد جموں اور لداخ میں لوگوں میں خوشی اور امید کا احساس ہے لیکن وادی کشمیرسہمی سہمی سی ہے، لوگوں میں عجیب سا خوف ہے تاہم اسی درمیان امکانات کے کونپل بھی پھوٹنے لگے ہیں۔

وادی کشمیر میں منگل کے روز مسلسل 44 ویں دن بھی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی معطل رہی۔ وادی بھر میں دکانیں و تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل ہے۔ تاہم سڑکوں پر بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔وادی میں جاری ہڑتال 5 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹائی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقے بنانے کا اعلان کیا۔

Loading...

وادی کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ جہاں نجی اسکولوں نے طلباء کو ویڈیو لیکچرس فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے وہیں سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کے لئے ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کا تین سالہ انڈر گریجویٹ کورس اس قدر طول پکڑ رہا ہے کہ کئی طلباء کو محسوس ہورہا ہے کہ ان کا کورس پانچ برس گزر جانے کے بعد بھی مکمل ہونے والا نہیں ہے۔ انڈر گریجویٹ کورس میں زیر تعلیم طلباء نے یونیورسٹی حکام سے امتحانات جلد از جلد منعقد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل یونین آف جرنلسٹس (انڈیا) کی قیادت میں مختلف میڈیا تنظیموں کے صحافیوں کے ایک وفد نے جموں لداخ اور کشمیر کا دورہ کیا۔ وفد نے گورنر ستیہ پال ملک سے بھی ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔وفد کا احساس تھا کہ جموں اور لداخ میں جہاں تبدیلی اور امید نئی کروٹ لے رہی ہے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنائے جانے پر وہاں کے لوگ خوشی کا اظہار کررہے ہیں وہیں وادی کشمیر میں عام آدمی کی زندگی خدشات سے دوچار نظر آتی ہے۔ وادی میں عوام سے بات چیت کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ لوگ اپنی شناخت بتانے کے لئے تیار نہیں تھے۔

وادی کشمیر میں 5 اگست سے مواصلاتی نظام بدستور معطل ہے جس کے باعث سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں خاص کر طلباء، صحافیوں اور تاجروں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وادی میں اگرچہ لینڈ لائن فون خدمات بحال کی جاچکی ہیں تاہم موبائل فون خدمات بدستور معطل ہیں۔مواصلاتی نظام پر جاری پابندی کے باعث لوگوں کو بیرون ریاست اپنے رشتہ داروں، زیر تعلیم طلباء وغیرہ کے ساتھ رابطہ کرنے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیز وادی کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ بھی رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔مواصلاتی نظام پر عائد پابندی کے باعث طلباء سخت ترین پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ مواصلاتی نظام پر جاری پابندی سے طلباء داخلہ فارم جمع کرپا رہے ہیں نہ اسکالر شپ اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں۔

پیشہ ور افراد کی ایک بڑی تعداد جن کا کام کاج انٹرنیٹ پر منحصر ہے پہلے ہی کشمیر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وادی کے ہر ضلعے میں انٹرنیٹ کونٹر کھولے جائیں گے جہاں طلباء سکالرشپ اور دیگر آن لائن فارم جمع کریں گے۔وادی میں گزشتہ زائد از ایک ماہ سے ریل خدمات بھی برابر معطل ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق وادی میں گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹرین سروس کم وبیش ایک سال تک بند رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے تاحال ریلوے کو کم سے کم ایک کروڑ روپئے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریل خدمات سرکاری احکامات پر معطل رکھی گئی ہیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بحال کی جائیں گی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی بھر میں منگل کے روز مسلسل 44 ویں دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم سری نگر کے سول لائنز و بالائی شہر اور مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ سری نگر میں کچھ سڑکوں پر آٹو رکھشا بھی چلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کے کسی بھی علاقے میں کسی قسم کی پابندیاں نافذ نہیں ہیں تاہم حساس مقامات پر بناء بر احتیاط سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جاسکے۔

یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار جس نے منگل کی صبح پائین شہر کا دورہ کیا، نے کہا کہ پائین شہر کے کسی بھی علاقے میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے تاہم حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے جو کافی چاک وچوبند اور چوکس نظر آرہے ہیں۔موصوف نامہ نگار نے کہا کہ اگرچہ لوگ بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں لیکن تمام دکان بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد مسلسل مقفل ہے اور جامع مسجد کے گرد وپیش سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔انتظامیہ نے بجز بی جے پی کے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ وادی میں جاری موجودہ ہڑتال کی کال کسی جماعت نے نہیں دی ہے۔

Loading...