உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بچوں کے ادیبوں کی ہمت افزائی کے ذریعہ ہی اردوکی بقاءممکن،4روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مقررین کااظہارخیال

    • Share this:
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب کا دہلی میں عظیم الشیان آغازہوگیا۔یادرہے کہ ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی جانب سے سلورجوبلی تقاریب سلسلہ کے تحت 4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ منعقد کی جارہی ہے۔ اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب ایوان غالب میں منعقد ہوئی۔اس میں دہلی حکومت کی جانب سے ریاستی وزیرعمران حسین، عام آدمی پارٹی کے ترجمان دلیپ پانڈے، رکن اسمبلی حاجی اشراق نے شرکت کی۔ پروفیسر اخترالواسع نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے گل بوٹے کے مدیرفاروق سید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ" ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سیدکام کرتاہے." انہوں نے کہا کہ فاروق سید دہلی والوں کے لیے تازیانہ بن کرآئے ہیں، دہلی جو ایک زمانے سے اردو سمیت تمام اہم زبانوں کا مرکز رہا ہے اسے اردو کی بدحالی کا آئینہ دکھانے ممبئی سے آئے ہیں، پروفیسراخترالواسع نے دہلی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرکار تعلیم کے میدان میں بہت اچھا کام کررہی ہے کاش تھوڑی توجہ اردو کی جانب بھی ہوجاتی تواردو میڈیم اسکولوں کواردو نصاب کی کتابیں وقت پرمل جاتیں، انہوں نے اس کے لیے این سی ای آر ٹی کو بھی ذمہ دارٹھہرایا۔

      گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔
      گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔


      گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید نے اپنے ادارہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ماہنامہ گل بوٹے پچھلے25 برسوں سے اردو کی خدمت کر رہا ہے لیکن مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ بڑے بڑے ادبا و شعراء بچوں کے ادیبوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔اسی احساس کو دورکرنے کے لیے میں نے گل بوٹے کی سلور جوبلی تقریبات دہلی میں کرنے کا فیصلہ کیا ہمارا ادارہ ملک بھر سے آئے ہوئے تقریباً بچوں کے200 ادیبوں کی چارروزتک خدمت کرے گا، انہوں نے اردو اداروں سے بچوں کے ادیبوں کو خصوصی ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا۔اس افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بچوں کے ادیبوں کی ہمت افزائی پرروزدیا۔
      افتتاحی تقریب میں ملک کی کئی ریاستوں کے اردو اکیڈمیز کے چیئرمین اور دیگرعہدہ داران نے شرکت کی۔ ان میں تلنگانہ اردو اکیڈمی کے چیئرمین محمد رحیم الدین انصاری، کرناٹک اردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین حافظ کرناٹکی، اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر امتیاز احمد کریمی، فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئیرمین پروفیسر عارف ایوبی، دہلی اردو اکیڈمی کے چئیرمین پروفیسرشہپررسول، اور نیا کے معروف ہیئراسٹالسٹ جاوید حبیب نے ادب اطفال کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کئے۔

      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب:4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ کے شرکاء۔(تصویر:پریس ریلیز)۔
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب:4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ کے شرکاء۔(تصویر:پریس ریلیز)۔


      ممبئی سے آئے ماہرتعلیم غلام پیش امام نے کہا کہ بچوں کو ان کے مادری زبان میں ہی سب سے بہتر تعلیم دی جاسکتی ہے۔ اردو والوں کو بچوں کی ابتدائی تعلیم اردو میں دلانے پر خاص طور پر توجہ دینی چاہیے. سلور جوبلی تقاریب میں خاص طورپرشرکت کے لئے قطر سے آئے مشہور محب اردو و تاجر حسن چوگلے نے کہا کہ گل بوٹے نے پچیس سال مسلسل رسالہ شائع کرکے ایک ایسی مثال بنائی ہے جس کی ماضی قریب میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے اردو کے لیے باتیں کرنے کے بجائے کام کرنے پرزوردیا.اس چار روزہ عالمی کانفرنس میں 8 ملکوں کے ادیب شرکت کررہے ہیں جس میں پروفیسرادریس صدیقی کناڈا، ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی ایران، پروفیسرعبدالخالق رشید افغانستان، عبدالقاسم علی محمد ماریشش، فہیم اختر لندن اور عادل فہیم دبئی ہیں۔ کانفرنس میں گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید کودوشالہ پیش کرکے اعزاز پیش کیا گیا۔ان کے علاوہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو گل بوٹے سلور جبلی تقریبات کا میمنٹو پیش کیا گیا۔

      کانفرنس کے انعقاد میں ادب اطفال سوسائٹی کے سکریٹری سراج عظیم، اور ہمالہ ڈرگس کے مالک سید فاروق، ایڈووکیٹ خلیل الرحمٰن، آٓصف اعظمی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، شبیہ احمد، ڈاکٹر رضا حیدر اور ڈاکٹر رضا وارثی، عرفان علی، شہزاد اختر اور امیر حمزہ اور ممبئی سے آئی گل بوٹے کی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا.
      چار روزہ عالمی کانفرنس کے دوسرے دن چوبیس ستمبر بروز منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ادب اطفال سمت و رفتار کے موضوع پر سمینار کا آغاز ہوگا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے بچوں کے ادیب اپنے مقالات پیش کریں گے. اس موقع پر گل بوٹے کی جانب سے بچوں کے ادیبوں کی پچیس نادر و کمیاب کتابیں جو گل بوٹے کی جانب سے شائع کی گئی ہیں ان کا اجراء عمل میں آیا. اسی طریقے سے پچیس ستمبر کو دہلی یونیورسٹی اور چھبیس کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سمینار کا انعقاد عمل میں آئے گا.پروگرام کے اختتام پر ملک بھر سے آئے ادیبوں کو دہلی درشن کرایا جائے گا۔
      First published: