ہوم » نیوز » وطن نامہ

50 فیصد لڑکیاں اس عمر تک پہنچتے ہی سیکسوئلی ہوجاتی ہیں سرگرم

ہندوستان میں سیکس کے بارے میں باتیں کرنا آج بھی ممنوع مانا جاتا ہے اور یہ مزید ممنوع اس وقت ہوجاتا ہے جب آپ قانونا بالغ بھی نہ ہوں ۔

  • Share this:
50 فیصد لڑکیاں اس عمر تک پہنچتے ہی سیکسوئلی ہوجاتی ہیں سرگرم
علامتی تصویر

پہلے سیکس کے بارے میں سبھی باتیں اس ایک اہم معاملہ سے شروع ہوتی تھی کہ بلوغت کی عمر کیا ہونی چاہئے ؟ اب سیکسول ویلنیس نے اس کو بڑھاتے دیتے ہوئے اور بھی زیادہ وسیع بنادیا ۔ سیکسوئل ڈیبیو انگریزی کی ڈکشنری میں اس لفظ کا معنی ہے اپنی بکارت کھونے کیلئے ایک فینسی لفظ ۔ مگر یہ صرف اتنا ہی نہیں ہے ، اس سے کہں زیادہ ہے ۔ سیکسوئل ڈیبیو صرف پہلے وجائنل سیکس تک محدود نہیں ہے ، اس میں دیگر طریقے سے کیا گیا نان پینیٹیٹو اور اورل سیکس بھی شامل ہے ، اس لئے آج کل کے نوجوان براہ راست سیکس کی بجائے دیگر طریقے اپنا رہے ہیں ، جنہیں ایک طریقہ کا آوٹرکورس بھی کہا جاسکتا ہے ۔


بہار میں پاپولیشن کونسل کے ذریعہ کئے گئے ایک سروے کے مطابق 14.1 فیصد غیر شادی شدہ لڑکے اور 6.3 فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں نے شادی سے پہلے جسمانی تعلقات قائم کئے ۔


ہندوستان میں سیکس کے بارے میں باتیں کرنا آج بھی ممنوع مانا جاتا ہے اور یہ مزید ممنوع اس وقت ہوجاتا ہے جب آپ قانونا بالغ بھی نہ ہوں ۔ مگر کیا ہم یہ مان سکتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر والے کسی بھی طرح کی سیکسوئل سرگرمی میں شامل نہیں ہیں ۔ اگر ہم ایسا سوچتے ہیں تو غلط ہے ۔


ہندوستان میں بڑی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں نان پینیٹیٹوسیکس کا تجربہ کرنے میں ملوث ہیں جیسے بوسہ اور ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو چھونا ۔ سبھی لڑکیوں میں 50 فیصد لڑکیاں 18 سال کی عمر تک پہنچتے ہی سیکسوئلی سرگرم ہوجاتی ہیں ۔

نوعمر لڑکے سیکس اور تولیدی صحت کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ ان کے ہم عمر دوستوں کے ذریعہ بتائی گئی ہوتی ہیں یا اب انٹرنیٹ پر دستیاب غلط معلومات بھی ہوسکتی ہیں ۔ اس طرح سیکس سے وابستہ کئی طرح کی غلط فہمیاں بھی ان کے ذہن میں ہوتی ہیں جیسے کہ مشت زنی اور رات میں انزال آپ کو نامرد بناسکتا ہے ۔ بوسہ لینے سے کوئی حاملہ ہوسکتا ہے ۔ سبھی پستان والی خواتین کے پستان میں دودھ ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں دیگر سبھی چیزیں ۔

ہم ایک اسپورٹ اکیڈمی میں ساتھ پڑھتے تھے ، وہ مجھ سے دو سال بڑی تھی ، ہمارے درمیان ایک فطری کشش تھی ، ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ، مسکراتے اور میچ اور سلیکشن سے وابستہ باتوں پر اکثر کچھ باتیں کرتے رہتے تھے ۔ کچھ دوستوں نے ایک میموریل میں ہم دونوں کیلئے ایک ڈیٹ جیسا کچھ رکھا تھا ، وہاں ان کھنڈرات کے درمیان ہم نے ایک دوسرے کا بوسہ لیا اور چھوا ۔ اس کے بعد بھی ہم کئی مرتبہ ایسا کرتے رہے ۔ س وقت میری عمر 15 سال تھی : سدھیر ، 21 ، ایتھلیٹ ، روہتک ۔

آپ جو کر رہے ہیں ، کیا وہ سیکسوئل ہے ؟ کیا یہ آوٹرکورس ہے ؟

براہ راست الفاظ میں کہا جائے تو یہ صرف انٹرکورس نہیں ہے باقی سبھی کچھ سیکسوئل ہے ۔

پہلی سیکسوئل سرگرمی جس میں کوئی شخص ملوث ہوتا ہے وہ مشت زنی ہے، جس کے ذریعہ آپ اعضائے مخصوصہ اور جسم کے دیگر سیکسوئل اعضا کو جوش میں لاتے ہیں ۔ یہ صرف غلط فہمی ہی ہے کہ صرف لڑکے ہی مشت زنی کرتے ہیں ، لڑکیاں بھی یہ کرتی ہیں اور اس کا لطف اٹھاتی ہیں ۔ مشت زنی کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے کہ یہ نقصان پہنچاتا ہے جبکہ یہ پوری طرح فطری ہے اور صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالتا ہے ۔

جب میں 12 سال کی تھی تو میں نے پایا کہ اپنی وجائنا اور رانوں کو ایک دوسرے پر رگڑنے سے میرے انڈرویئر گیلے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد جو احساس ہوتا تھا وہ اچھا تھا ۔ بعد میں فطری طور پر میں نے اپنی انگلیوں کا استعمال کرنا شروع کردیا اور نیچے اور بھی چیزوں کو رگڑنے کا تجربہ کیا ۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور جب میں 16 سال کی ہوئی تو اس وقت میری ایک کزن نے بتایا کہ اس کو مشت زنی کہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ میرے جسم کو سیکس کی ضرورت ہے ۔ میں نے 20 سال کی عمر میں ایک لڑکے کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے ۔ میں ابھی بھی کافی مشت زنی کرتی ہوں ۔ دیپا ( بدلا ہوا نام ) نرسنگ طالبہ ، جمشید پور ۔

کسی دوسرے کے ساتھ کی جانے والی سیکسوئل سرگرمیوں میں بوسہ لینا اہم ہے ۔ ایک دوسرے کے ہونٹوں کا بوسہ لینا سیکسوئل جوش حاصل کرنے کیلئے بنیادی سرگرمی ہے اور جیسا کہ عام لوگ جانتے مانتے ہیں کہ یہ مغربی ممالک کی دین ہے ، کاما سوتر کے دوسرے حصے کے تیسرے باب میں بوسہ کو لے کر تفصیلی جانکاری ہے ۔ آج کل نوجوان کسنگ کو صرف ٹی وی یا فلموں میں دیکھتے ہیں ۔ ہونٹوں سے ہونٹوں کو چومنا مغربی ممالک میں معمولی بات ہے اور یہ کام لوگ اہل خانہ کے درمیان میں بھی کرتے ہیں ۔

دوسری سیکسوئلی سرگرمی اورل سیکس ہے ، جس میں نوجوان اس وقت ملوث ہوتے ہیں جب انہیں سیکس چاہئے ہوتا ہے ، مگر انٹرکورس نہیں ۔ اورل سیکس میں اعضائے مخصوصہ کو منہ ، ہونٹ اور زبان سے جوش میں لایا جاتا ہے ۔ یہ سیکس سے پہلے کیا جانے والا کام بھی ہے ۔ پھر بھی کچھ کلچر میں اس کو گندہ اور غیر فطری مانا جاتا ہے اور مذہبی طور پر گناہ بھی ۔ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس سے کئی غلط فمہیاں بھی وابستہ ہیں ۔ نوجوان اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اورل سیکس کرنے سے وہ حمل سے بچ جاتے ہیں مگر کنڈوم کا استعمال نہ کرنے سے سیکسوئلی ٹرانسمیٹڈ بیماریوں کے ہونے کا اندیشہ بنا رہتا ہے ۔

مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں سیکس کیلئے تیار ہوں ؟

یہ نوجوانوں کا سب سے گمراہ کن سوال ہے کہ آوٹر کورس کرنے کے بعد کب میں سیکس کرنے کیلئے تیار ہوں ؟ مجھے کب سیکسوئل ڈیبیو کرنا چاہئے ؟

زیادہ تر لڑکیاں اس کو روایتی طور پر شادی کیلئے پردہ بکارت بچا کر رکھنے سے وابستہ کرتی ہیں ۔ زیادہ تر لڑکوں پر دوستوں اور ساتھیوں کا اثر اور کرکے دیکھنے کا جوش بھاری پڑتا ہے ۔

زیادہ تر نوجوان یہ جانتے ہیں کہ سیکس جسمانی ہے ، مگر سیکسوئل ڈیبیو سے وابستہ جذباتی اثر کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہر نوجوان اپنے آپ میں الگ ہوتا ہے اور اس کی پرورش اور ذاتی ترجیحات یہ طے کرتی ہیں کہ کیا ، کب اور کتنا سیکس چاہئے ۔ سیکس کرنے کیلئے آپ کتنے تیار ہیں ، یہ ناپنے کیلئے یہ اچھا پیمانہ ہے کہ آپ جانیں کہ سیکس ، مانع حمل ، صاف اور محفوظ سیکس اور آپسی رضامندی کے بارے میں کتنا جانتے ہیں ؟ سب سے ضروری بات کہ کیا آپ اور آپ کا ساتھی سیکس کو لے کر ملنے والے منفی جواب اور ردعمل کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے ؟

پہلی ہی ملاقات میں یہ بہت جلدی ہونے والا سیکسوئل ڈیبیو کو صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا جب تک دونوں پارٹنر تیار نہ ہوں اور سیکس کے بعد ہونے والے ضمنی اثرات کو بخوبی نہیں جانتے ہوں ۔

پہلی مرتبہ ہونے والا سیکس یادگار اور پرلطف ہونا چاہئے ، کشیدگی سے بھرپور اور زبردستی نہیں ہونا چاہئے ۔ کنوارے پن کا لطف اٹھائیے ۔
First published: Feb 06, 2020 11:11 PM IST