உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    5G services in India:نہیں پڑے گیDTHکی ضرورت، 5Gسے موبائل میں سم لگاکر دیکھ پائیں گے سارے چینل، جانیے کب سے شروع ہوگی سروس

     5G ٹکنالوجی سے ملیں گے یہ فائدے۔ ہندوستان میں ہوگی اس مہینے سے شروعات۔

    5G ٹکنالوجی سے ملیں گے یہ فائدے۔ ہندوستان میں ہوگی اس مہینے سے شروعات۔

    5G services in India: ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے پروگراموں کو دیکھنا سستا ہو جائے گا کیونکہ اس کے لیے کسی DTH (ڈائریکٹ ٹو ہوم) سروس یا کیبل آپریٹرز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    • Share this:
      5G services in India: آئندہ اگست-ستمبر میں ہندوستان میں 5G سروس کی شروعات ہونے جا رہی ہے۔ اس کے بعد براڈکاسٹنگ کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ ملک کے ٹیکنوکریٹس نے ڈائریکٹ ٹو موبائل (D2M) براڈکاسٹنگ سروس کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ D2M کے آغاز کے بعد ملک کا ہر فرد اپنے موبائل پر ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تمام پروگرام دیکھ سکے گا۔ ڈی ٹو ایم کے آغاز کے بعد، یوزرس کے پاس ٹیلی ویژن دیکھنے کے لیے دو آپشن ہوں گے۔ اس میں براڈ بینڈ نیٹ ورک اور براڈکاسٹ نیٹ ورک شامل ہوں گے۔ ڈی ٹو ایم براڈکاسٹ نیٹ ورک ہے۔

      ملک میں 75 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے پاس ہے اسمارٹ فون
      سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت 21 کروڑ گھرانوں کے پاس ٹیلی ویژن ہے اور ان میں سے 11 کروڑ گھرانوں کے پاس کیبل کنکشن ہیں۔ اس کے برعکس ملک میں 1.2 ارب لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں اور ان میں سے 75 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے پاس اسمارٹ فون ہیں۔ ڈی ٹو ایم کے آغاز کے ساتھ، اسمارٹ فون رکھنے والا ہر فرد کیبل ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے تمام پروگراموں کو اچھی کوالیٹی میں دیکھ سکے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      COVID-19 Vaccination:کووی شیلڈ یا کوویکسین لے چکے لوگ لگاسکیں گے کوربیویکس ویکسین

      یہ بھی پڑھیں:
      Single Use Plastic Ban: سنگل یوز پلاسٹک ختم کرنے کیلئے مرکزی سرکار نے ریاستوں کو لکھا خط

      ڈی ٹی ایچ اور کیبل آپریٹرس کی ضرورت نہیں
      گاؤں کے بچے ٹی وی پر چلنے والے تعلیمی پروگرام دیکھ سکیں گے۔ ایمرجنسی کی صورت میں انہیں آگاہ کیا جا سکے گا۔ 5G ڈی ٹو ایم کے متعارف ہونے کے بعد، ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے پروگراموں کو دیکھنا سستا ہو جائے گا کیونکہ اس کے لیے کسی DTH (ڈائریکٹ ٹو ہوم) سروس یا کیبل آپریٹرز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس کے لئے ایک مخصوص رقم ادا کرنی ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: