ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رُدولی شریف : حضور مخدوم شیخ العالم کا 603 واں عرس اختتام پذیر ، ہزاروں عقیدتمندوں کی شرکت

آج ملک کو محبت اور اخوت کے جس مشن اور پیغام کی ضرورت ہے وہ درگاہوں خانقاہوں اور ان امقدس مقامات سے ہی فروغ پا سکتاہے جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہیں

  • Share this:
رُدولی شریف : حضور مخدوم شیخ العالم کا 603 واں عرس اختتام پذیر ، ہزاروں عقیدتمندوں کی شرکت
رُدولی شریف : حضور مخدوم شیخ العالم کا 603 واں عرس اختتام پذیر ، ہزاروں عقیدتمندوں کی شرکت

ردولی ، ایودھیا ضلع کا ایک ایسا قصبہ ہے ، جس کی ادبی اور مذہبی شناخت دنیا کے نقشے پر بڑی نمایاں اور ممتاز ہے ۔ یوں تو یہ شہر شہرِ مجاز ہے اور اس شہر کے ادبی معیار و وقار کو مجاز رُدولوی نے بام عروج پر پہنچا کر اسے وہ ادبی حیثیت عطا کی ہے ، جس پر ناز کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس کے مزاج واخلاق اور مذہبی بلندیوں کا لامتناہی سلسلہ مرہون منت ہے اس عظیم اور برگزیدہ شخصیت کا جس کو پوری دنیا میں شیخ العام کے نام سے جانا جاتا ہے  ۔ حضرت مخدوم شیخ العالم کا شمار ان بزرگان رشد و ہدایت میں کیا جاتا ہے ، جنہوں نے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ سب سے بڑ امذہب انسانیت ہے اور تمام انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں ، کسی بھی بنیاد پر کوئی چھوٹا اور بڑا نہیں ۔


حضورشیخ العالم کے آستانے پر ہر مذہب ، ہر قوم وملت اور ہر مکتب ونظر کے لوگ آتے ہیں۔ خانقاہ کے سجادہ نشین ومتولی نیر میاں کے مطابق مذہبی نگری ایودھیا سے اس خانقاہ کا بڑا گہرا رشتہ ہے ۔ شیخ العالم نے سرجوندی میں خصوصی چلاّ کیا تھا ، جس کےنتیجہ میں خدائے پاک نے انہیں دعائے حیدری عطا کی تھی اور ایک زمانے تک سرجو ندی کے مشرقی ساحل پر مخدوم گھاٹ کی زیارت کے لئے لوگوں کا آنا جانا رہا ۔ سریو کے ساحل پر یہ گھاٹ آج بھی موجود ہے ۔ معروف عالم دین ، خادم خانقاہ  اور امام عید گاہ انتخاب عالم حقی کہتے ہیں کہ تقریباّ آٹھ سوسال قبل شیخ العالم کے آباو اجداد بلخ سے ہندوستان تشریف لائے تھے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ جہالت ، شرک اور توہم پرستی کے غار میں تھے ۔ حضرت شیخ العالم کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت شیخ عارف احمد جانشین ہوئے اور اب جبکہ چھ سوسال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے ، اسی خانوادے کے چشم و چراغ نیر میاں اپنی وراثت کو بہ حسن وخوبی سنبھالے ہوئے ہیں ۔


یہ خانقاہ سلسلہ صابریہ کی پہلی خانقاہ ہے ، جس نے تصوف کے تمام اصولوں ، ضابطوں ، روشن حکایتوں اور  تعلیمات کو اپنی اصل شکل میں نہ صرف برقرار رکھا ، بلکہ تصوف کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے نتیجہ خیز کوششیں بھی کی ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ عرس کے موقع پر ہندوستان کی سو سے زیادہ خانقاہوں اور درگاہوں کے لوگ ردولی شریف آتے ہیں اور مخدوم شیخ العالم کی تعلیمات سے اکتساب علم کرتے ہیں ۔


عرس کی تقریبات پندرہ دن مسلسل جاری رہتی ہیں اور مختلف تقریبات میں روشن روایتوں سے وابستہ اہم رسومات تزک واحتشام اور عقیدت واحترام کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں ۔ تصویر : طارق قمر ۔
عرس کی تقریبات پندرہ دن مسلسل جاری رہتی ہیں اور مختلف تقریبات میں روشن روایتوں سے وابستہ اہم رسومات تزک واحتشام اور عقیدت واحترام کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں ۔ تصویر : طارق قمر ۔


عرس کی تقریبات پندرہ دن مسلسل جاری رہتی ہیں اور مختلف تقریبات میں روشن روایتوں سے وابستہ اہم رسومات تزک واحتشام اور عقیدت واحترام کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں ۔ خانقاہ سے متعلقہ سوسائٹی کی جانب سے تصوف کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ، جن کے ذریعہ لوگوں کو مختلف انداز کی سہولیات بھی فراہم کی جاسکیں اور ان کی معیار زندگی بھی بلند کی جاسکے ۔ ساتھ ہی انہیں ملک کے موجودہ حالات کے مطابق صبر وتحمل کے سانچے میں ڈھلنے اور راہ تصوف پر چلنے کا سلیقہ بھی سکھایا جاسکے ۔ شیخ العالم کے قل شریف میں شریک ہونے کے لئے ملک کی مختلف ریاستوں اور خطوں سے لاکھوں زائرین ردولی پہنچے تھے ، جنہوں نے اپنی اپنی سہولیات کے مطابق مختف تقریبات میں شرکت کی ۔

محفل سماع میں شریک ہونے والے زائرین  پر جب وجد کی کیفیت طاری ہوئی تو محسوس ہوا کے تصوف ہی وہ واحد راستہ ہے جو عبد و معبود کے درمیان کے سارے فاصلوں کو ختم کرکے کچھ دیر کے لئے بندے کو اپنے معبود سے ملا دیتا ہے ۔ قل شریف کی دعاوں کے ساتھ ہی ملک کی ترقی ، سلامتی ، قومی اتحاد اورامن وشانتی کے قیام کے لئے بھی مخصوص دعائیں کی گئیں ۔ اوران مخصوص دعاوں کے ساتھ ہی حضور مخدوم شیخ العالم کا چھ سو تین واں عرس اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔
First published: Feb 10, 2020 10:21 PM IST