اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مہاراشٹرمیں خسرہ کے بڑھتے ہوئے معاملوں سے تشویش ،12متاثرہ بچوں کی موت، انتظامیہ چوکس

    
 بدھ کے روز ممبئی میں خسرہ کی وبا سے ایک 8 ماہ کے بچے کی موت ہو گئی۔۔(علامتی تصویر: نیوز18)۔

    بدھ کے روز ممبئی میں خسرہ کی وبا سے ایک 8 ماہ کے بچے کی موت ہو گئی۔۔(علامتی تصویر: نیوز18)۔

    بدھ کے روز ممبئی میں خسرہ کی وبا سے ایک 8 ماہ کے بچے کی موت ہو گئی۔جس سے شہر میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 12 ہو گئی۔ پیر کو ممبئی میں سب سے زیادہ 24 مریضوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      ممبئی:مہاراشٹر میں خسرہ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کی وجہ سے کئی بچوں کی مسلسل موت ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں بچے اب بھی ا سپتال میں داخل ہیں۔ جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ایسے میں اگر ہم ممبئی کی بات کریں تو بی ایم سی کی جانکاری کے مطابق شہر میں کل 3208 مریضوں میں خسرہ سے متعلق علامتیں پائی گئیں ہیں۔ جن میں سے کل 220 مریض اب بھی زیر علاج ہیں۔ بدھ کے روز ممبئی میں خسرہ کی وبا سے ایک 8 ماہ کے بچے کی موت ہو گئی۔جس سے شہر میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 12 ہو گئی۔ پیر کو ممبئی میں سب سے زیادہ 24 مریضوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی تھی۔ وہیں سب سے زیادہ مریض بھیونڈی اور کرلا سے آرہے ہیں۔ زیادہ تر بیمار بچوں کی عمر 5 سال سے کم ہے۔

      پورے مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے معاملات پر حکام کا کہنا ہے کہ صرف ممبئی میں ہی نہیں بلکہ ممبئی کے باہر بھی خسرہ کے معاملوں میں اضافہ دیکھاجارہاہے۔ 17 نومبر تک پوری ریاست میں اس بیماری کے 500 سے زیادہ کیسز درج کیے گئے ہیں۔ اس میں تھانے ضلع کے بھیونڈی سے 7 اور ناسک کے مالیگاؤں میں 5 معاملے سامنے آئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں پوری ریاست میں 153، 2020 میں 193 اور 2021 میں 92 کیسز رپورٹ ہوئے۔ نئی ممبئی کی بات کریں تو پنویل میں 3 مریضوں اور 15 مریضوں میں خسرہ کی علامات پائی گئیں ہیں۔ جس کے بعد پنویل میں 300 مقامات پر ویکسی نیشن کی مہم چلائی جارہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں

      حکام کا کہنا ہے کہ حالات زندگی، بڑے خاندان، صحت کی مناسب خدمات کا فقدان، صفائی کی سہولیات اور غذائیت کا فقدان، کمزور قوت مدافعت، حفاظتی ٹیکوں کی عدم فراہمی اور ویکسین سے ہچکچاہٹ شہر میں اس بیماری کے پھیلنے کی چند بڑی وجوہات ہیں۔

      مہاراشٹر کے ہیلتھ مانیٹرنگ آفیسر پردیپ اوتے نے کہا کہ اگر ایک ہفتے میں انفیکشن کے پانچ مشتبہ کیس ہوتے ہیں، جن میں سے دو سے زیادہ کی لیبارٹری ٹیسٹ میں تصدیق ہوتی ہے، تو اسے وباء کہا جاتا ہے۔ ریاستی بلیٹن کے مطابق، محکمہ صحت خسرہ کے لیے گھر۔ گھر نگرانی کر رہا ہے اور مہم کے ایک حصے کے طور پر خصوصی ویکسی نیشن سیشن کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: