உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھنؤ کے کنونشن سینٹر میں ادب و مذہب کا خوبصورت امتزاج، آواز چیریٹیبل ٹرسٹ کی قابل ستائش کوشش

    آج ضرورت ایسی ہی قدروں کو پروان چڑھانے کی ہے جن کی بنیاد پر ادب اور مذہب کو انسانی محبت و اخوت کا وسیلہ بنایا جاسکے

    آج ضرورت ایسی ہی قدروں کو پروان چڑھانے کی ہے جن کی بنیاد پر ادب اور مذہب کو انسانی محبت و اخوت کا وسیلہ بنایا جاسکے

    اس روشن تاریخ کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذہب و ادب ایک دوسرے میں شیر وشکر کی طرح ضم ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں لیکن موجودہ وقت میں مذہب اور ادب کے الگ ہوتے پلیٹ فارم کہیں نہ کہیں اس بات کا احساس بھی کرا رہے ہیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں اب کسی حد تک تبدیلیاں ضرور محسوس کی جارہی ہیں اور کہیں نہ کہیں ہماری قدیم قدریں پامال ہوتی نظر آرہی ہیں۔

    • Share this:
    مذہب اور ادب کے تعلق سے جو تاریخ ابھی تک رقم کی گئی ہے وہ اس تناظر میں بہت اہم ہے کہ ہماری مذہبی قدروں نے ادب کا فروغ بھی کیا ہے اور ادبی قدروں اور روایتوں کو استحکام بھی بخشا ہے۔ دوسری طرف ادب نے مذہبی لٹریچر کی نشر و اشاعت میں جو بنیادی رول ادا کیا اس کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس روشن تاریخ کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذہب و ادب ایک دوسرے میں شیر وشکر کی طرح ضم ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں لیکن موجودہ وقت میں مذہب اور ادب کے الگ ہوتے پلیٹ فارم کہیں نہ کہیں اس بات کا احساس بھی کرا رہے ہیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں اب کسی حد تک تبدیلیاں ضرور محسوس کی جارہی ہیں اور کہیں نہ کہیں ہماری قدیم قدریں پامال ہوتی نظر آرہی ہیں۔ ان نا مساعد اور مشکل حالات میں بھی کبھی کبھی ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جو ہمیں یہ بتاتے اور سکھاتے ہیں کہ ادب اور مذہب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اتر پردیش اردو اکادمی کے مالی تعاون سے آواز چیریٹیبل ٹرسٹ آف انڈیا کی جانب سے منعقد کئے گئے آل انڈیا مشاعرے میں ادب اور مذہب کا جو سنگم دیکھنے کو ملا۔ اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ۔

    لکھنئو کے کنونشن سنٹر میں مشاعرہ شام سات بجے شروع ہونا تھا اسی وقت مغرب کی نماز کا وقت ہوا ، مشاعرہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا ہال میں لوگ اپنی نشستیں لے چکے تھے ۔ سامعین میں بے جے پی کے اراکین بھی موجود تھی اور مدارس کے طلبا بھی کثیر تعداد میں مشاعرہ سننے پہنچے تھے۔ طلبا جب نماز پڑھنے کی غرض سے اٹھے تو مسئلہ یہ سامنے آیا کہ نماز کہاں ادا کی جائے بی جے پی کے اہم رکن اور لیڈر شفاعت حسین کی ایما پر مغرب کی نماز مشاعرے کے اسٹیج پر بچھی صاف شفاف چاندنیوں پر جماعت کے ساتھ ادا کی گئی۔ یہ تھا ادب اور مذہب کا خوبصورت امتزاج ۔ نماز کے بعد حکومتِ اتر پردیش کے وزیر برائے اقلیتی امور ، دانش انصاری اور اشفاق احمد کی موجودگی میں قومی یکجہتی پر مبنی مشاعرے کا آغاز ہوا جس میں شریک شعراء و شاعرات نے حب الوطنی پر مبنی اپنا کلام پیش کیا ۔

    گجرات فسادات پرAmit Shah: مودی جی بغیر کچھ بولے اتنے سال زہر کا گھونٹ پی کر درد جھیلتے رہے

    14 ارب کی دولت کے مالک ہیں Rupert Murdoch، 4 شادی سے بنے 10 بچوں کے والد

    اس موقع پر بی جے پی لیڈر اور اقلیتوں کے معتبر نمائندے شفاعت حسین کی ایما پر شرکاء کو اعزاز و ایوارڈ بھی پیش کئے گئے ۔شفاعت حسین نے کہا کہ مذہب اور ادب مقصد کے لحاظ سے ایک ہیں دونوں کا مقصد انسانوں کو صحیح راستے پر چلانا اور دماغ کو سکون بخشناہے۔اس دور میں ادب اور مذہب کے مابین رشتوں پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ہے ہم کوشش کررہے ہیں کہ یہ رشتے مضبوط ہوں اردو ترقی کرے اور ادبی و مذہبی قدریں مستحکم ہوں۔

    China نے پھر دیا کنگال دوست کا ساتھ، پاکستان کو ملا 2.3 ارب ڈالر کا قرض

    اس موقع پر دانش انصاری نے کہا کہ مذہب اور ادب دراصل ذات کے عرفان کا نام ہے اورانسان اقدار سے جڑا ہوا ہے۔مذہب جہاں انسانوں کی اخلاقی آبیاری کرتا ہے وہیں ادب انسانوں کی طرز زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔اشفاق حسین نے کہا کہ دنیا میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ کسی زبان کی ادبی کتابیں اس زبان کے لیے آکسیجن کی مانند ہوتی ہیں. ادب سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بھی آپ کو متشدد نظریات کے حامی لوگ نظر آئیں گے۔ مثلا بعض مذہبی افراد چاہتے ہیں کہ ادبی کتابیں بھی مذہب سے بھر جائیں اور بعض اس کے برعکس تگ و دو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کس طرح مذہب کے خلاف آواز کو ادبی رنگ میں پیش کیا جائے لیکن بہتر لوگ وہی ہیں جو ادب اور مذہب کے مابین ایک خوبصورت تال میل بنائے رکھتے ہیں جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ادبی کتابوں میں مذہب ہو یا نہ ہو لیکن ادبی کتابیں بس مذہب کے متصادم نہ ہوں۔ ڈاکٹر ایس این اوجھا کی صدارت میں منعقد ہوئے مشاعرے کے آخر میں شفاعت حسین نے شعراء کرام ، معزز مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: