உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: کھرگون تشدد معاملے میں شہرقاضی کی قیادت میں علمائے کرام کے وفد نے کی ملاقات

    کھرگون تشدد معاملے میں شہرقاضی کی قیادت میں علمائے کرام کے وفد نے کی ملاقات

    کھرگون تشدد معاملے میں شہرقاضی کی قیادت میں علمائے کرام کے وفد نے کی ملاقات

    مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے تشدد کو لے کر ایک جانب جہاں سیاست جاری ہے۔ وہیں دوسری انتظامیہ کے ذریعہ شرپسند عناصر کے نام پر کارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تشدد میں پتھر پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جہاں ان کے مکان زمیں دوز کئے جا رہے ہیں۔ وہیں بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی قیادت میں علمائے دین کے وفد نے مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی سے ملاقات کرکے انتظامیہ پر تشدد کے نام پریکطرفہ کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے تشدد کو لے کر ایک جانب جہاں سیاست جاری ہے۔ وہیں دوسری انتظامیہ کے ذریعہ شرپسند عناصر کے نام پرکارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تشدد میں پتھر پھینکنے والوں  کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جہاں ان کے مکان زمیں دوز کئے جا رہے ہیں۔ وہیں بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی قیادت میں علمائے دین کے وفد نے مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی سے ملاقات کرکے انتظامیہ پر تشدد کے نام پریکطرفہ کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

    علمائے دین کے وفد نے کھرگون انتظامیہ کی جانب سے مکانات کو منہدم کرنے کی کارروائی کو جہاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے وزارت میں وزیر داخلہ اور محکمہ پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ میٹنگ کرکے کھرگون معاملے کی تفصیلی رپورٹ لی اور تہواروں کے موقع پر ریاست گیر سطح پر سیکورٹی بندو بست کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی۔

     علمائے دین کے وفد نے کھرگون انتظامیہ کی جانب سے مکانات کو منہدم کرنے کی کارروائی کو جہاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    علمائے دین کے وفد نے کھرگون انتظامیہ کی جانب سے مکانات کو منہدم کرنے کی کارروائی کو جہاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔


    بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے نیوز ایٹین اردو سے بات چیت کے دوران بتایا کہ کھرگون مدھیہ پردیش کے دوسرے شہروں میں حالیہ دنوں سے جو تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، ان سب کو لے کر ڈی جی پی مدھیہ پردیش سے علمائے کرام کے وفد نے ملاقات کی ہے اور ہم نے کھرگون کے معاملے میں اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارا صوبہ امن کا ٹاپو ہے، اگر اسے کوئی شرپسند نقصان پہنچاتا ہے تو اس کےخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے، لیکن جو لوگ بے گناہ ہیں ان کو سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ صرف مسلمان کے نام پر کاروائی نہیں کی جانی چاہئے۔

    شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی سے جب  پوچھا گیا کہ اب تک پنچانوے لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا جا چکا ہے اور چودہ لوگوں کے مکان منہدم کر دیئے گئے ہیں تو اسے کیا آپ درست مانتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہماری معلومات کے مطابق یہاں انصاف نہیں کیا گیا، اسی لئے ہم لوگوں نے ڈی جی پی صاحب سے ملاقات کی اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی اور کسی بے گناہ کے خلاف کاروائی نہیں کی جائے گی۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    CM نتیش کمار کی سیکورٹی میں پھر سیندھ ماری، دھماکہ خیز مواد لے کر تقریب میں کیسے گھسا نوجوان؟
    آپ دیکھئے ایک خربوز بیچنے والے کا گھر توڑ دیا گیا ہے۔ اگر کسی نے خطا کی ہے تو اس کو سزا دی جائے، اس کے گھر والوں کو نہیں۔ پتھر بازی کے معاملے کا بھی ہم نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں جو خطاوار ہیں، ان کو سزادی جائے اور جو لوگ اس سازش کے پیچھے ہیں انہیں بھی سزا دی جائے۔

    وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے کھرگون تشدد پر وزیر داخلہ اور پولیس کے اعلی حکام کی میٹنگ بلاکر انہیں امن و قانون کو چست کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ امن کے ٹاپو میں تشدد کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی ہے۔ جو لوگ شرپھیلائیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ آگے ہنومان جینتی اور عید کا بھی تہوار ہے۔ آپ سب لوگ اپنے اپنے ضلع پرگہری نظر رکھیں تاکہ کسی شرپسند کو تشدد کرنے کا موقع نہ ملے۔ جو لوگ تشدد کریں گے، ان پر کارروائی بھی ہوگی اور ان سے نقصان کی وصولی بھی ہوگی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: