اپنا ضلع منتخب کریں۔

    تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوئی پانچ منزلہ عمارت، ملبے میں دبے 14 لوگ نکالے گئے

    تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوئی پانچ منزلہ عمارت، ملبے میں دبے 14 لوگ نکالے گئے

    تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوئی پانچ منزلہ عمارت، ملبے میں دبے 14 لوگ نکالے گئے

    ڈپٹی سی ایم برجیش پاٹھک و شہری ترقیاتی وزیر اے کے شرما سمیت انتظامیہ کے تمام اعلیٰ عہدیدار موقع پر موجود رہے۔ علاقے میں بھاری پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
      لکھنو میں منگل کی شام خوفناک حادثے میں وزیر حسن روڈ پر واقع پانچ منزلہ اپارٹمنٹ ’الایہ‘ تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوگئی۔ ملبے میں 30 سے زیادہ لوگ دب گئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس، فائربریگیڈ، ایس ڈی آر ایف اور فوج کے جوانوں نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے اب تک 14 لوگوں کو باہر نکال کر اسپتال میں بھرتی کرایا ہے۔ باقی پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے راحت رسانی کے کام جاری ہیں۔

      لکھنو کے ڈی ایم سوریہ پال گنگاوار نے بتایا کہ رہائشی عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ابھی آپریشن جاری رہے گا۔ 6-5 لوگ پھنسے ہیں۔ ہم نے ان میں سے کچھ سے رابطہ کیا ہے۔ انہیں آکسیجن مہیا کرائی جارہی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایس چوہان نے بتایا کہ پانچ لوگ ابھی بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں مناسب آکسجن کی سپلائی کی جارہی ہے۔ وہ ایک ہی کمرے میں ہیں۔ ہم دو لوگوں کے رابطے میں ہیںَ ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ معامے کی مناسب جانچ کی جائے گی۔

      ڈپٹی سی ایم برجیش پاٹھک و شہری ترقیاتی وزیر اے کے شرما سمیت انتظامیہ کے تمام اعلیٰ عہدیدار موقع پر موجود رہے۔ علاقے میں بھاری پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پانچ منزلہ الایہ اپارٹمنٹ میں مجموعی طور پر 12 فلیٹ ہیں۔ سب سے اوپر ایک پینٹ ہاوس ہے۔ شام قریب ساڑھے چھ بجے اچانک سے یہ عمارت منہدم ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع پر راحت رسانی کام کے لیے پولیس کے علاوہ ایسڈ ی آر ایف، فوج اور فائربریگیڈ کے جوان پہنچے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جے این یو میں BBC کی متنازعہ ڈاکیومنٹری بتائے جانے پر ہنگامہ، سنگباری کی غیر مصدقہ خبریں

      یہ بھی پڑھیں:
      وزیراعظم مودی نے خواجہ معین چشتی کے عرس پر پیش کی جانے والی چادر سونپی

      اس وجہ سے ہوا حادثہ
      پولیس کے مطابق پارکنگ میں پانی کا اخراج ہورہا تھا۔ اس لیے مالک وہاں پر پائپ ڈالنے کے لیے کام کروارہا تھا۔ تین دنوں سے کام جاری تھا۔ ڈرلنگ مشین سے کھدائی کی جارہی تھی۔ جانکاری کے مطابق انڈرگراونڈ ایک کمرے کی بھی تعمیر کرائی جارہی تھی۔ اندیشہ ہے کہ اسی دوران عمارت کا فاونڈریشن گرڈ ڈیمیج ہوا۔ جس کی وجہ سے پوری عمارت منہدم ہوگئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: