ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عمدہ مثال ایک مسلمان نے دس سال یتیم ہندو لڑکی کی پرورش کی اور ہندو لڑکے سے کرائی شادی

پوجا دس سال قبل یتیم ہو گئی تھی اور اس کے اپنے رشتہ داروں نے اس کی پرورش سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد محبوب نے ایک باپ کی حیثیت سے اس کی دیکھ بھال کی اور پوجا کی ہندو لڑکے سے شادی کرادی۔

  • Share this:
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عمدہ مثال ایک مسلمان نے دس سال یتیم ہندو لڑکی کی پرورش کی اور ہندو لڑکے سے کرائی شادی
پوجا کی شادی کے موقع پر لی گئی ایک تصویر۔(اے این آئی)۔

ملک میں مخلتف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ جو ملک میں بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کی عمدہ مثال ہے۔ اسی کی ایک مثال محبوب مسلی Mehboob Masli ہیں۔ جن کا تعلق کرناٹک کے وجئے پورہ سے ہیں۔ جنہوں نے 18 سالہ ہندو یتیم لڑکی پوجا وڈیگیری (Pooja Vadigeri) کو اپنی سرپرستی میں رکھا، اس کی پرورش کی اور ایک ہندو لڑکے سے شادی کرائی۔


محبوب مسلی Mehboob Masli ایک 18 سالہ ہندو لڑکی پوجا وڈیگیری کے سرپرست ہیں، جس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ انھوں نے جمعہ کے روز ہندو رسم و رواج کے مطابق پوجا کا اہتمام کیا اور لڑکی کو الواداع کہا۔ پوجا دس سال قبل یتیم ہو گئی تھی اور اس کے اپنے رشتہ داروں نے اس کی پرورش سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد محبوب نے ایک باپ کی حیثیت سے اس کی دیکھ بھال کی اور اس کی پرورش کی۔



اگرچہ محبوب دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ ہیں، اس کے باوجود انھوں نے پوجا کو گھر لانے کا فیصلہ کیا، انھوں نے نہ صرف اس کی پرورش کی بلکہ اس لڑکی کے ساتھ اپنی ہی اولاد کی طرح سلوک کیا اور پوجا کی ہندو لڑکے سے شادی کرادی۔ محبوب نے کہا کہ ’’یہ میری ذمہ داری تھی کہ میں اس کی شادی اسی کے ہم مذہب سے تعلق رکھنے والے مرد سے کروں۔ تاکہ وہ کسی بھی کی طرح کی زبردستی محسوس نہ کرے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے میرے گھر میں رہتی تھیں لیکن میں نے انہیں کبھی بھی ہمارے مذہب (اسلام) پر عمل کرنے یا کسی مسلمان مرد سے شادی کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ یہ ہمارے مذہب کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اسلام تو کسی سے زور زبردستی نہیں کرتا‘‘-  دولہا کے والدین نے جہیز کا مطالبہ کیے بغیر پوجا کو خوشی سے قبول کر لیا۔ محبوب نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ متنوع برادریوں کے درمیان ہم آہنگی سے رہیں اور تکثیری سماج کا حصہ بنے

محبوب نے آخر میں کہا کہ میں معاشرے کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہر ایک کو ہم آہنگی سے رہنا چاہیے۔ محبوب شہر میں بہت سی سماجی خدمات اور فلاحی کاموں کے لیے مشہور ہیں۔ گویا وہ سب کے ’’محبوب‘‘ ہیں۔ وہ ایسے کاموں کے لیے بھی مشہور ہیں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ شہر میں گنپتی پروگرام منعقد کرنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں ۔ پوجا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں بہت خوش ہوں کہ ایسے عظیم والدین بڑے دل کے قریب ہیں جنہوں نے میری دیکھ بھال کی‘‘
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Aug 03, 2021 12:55 AM IST