உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اگنی پتھ کے خلاف احتجاج اورمظاہروں میں شدت، سڑکوں پر اترے نوجوان

    حکومت کی اگنی پتھ اسکیم اب سرکار کے گلے کی ہڈّی بنتی جارہی ہے ، ملک کی افواج میں تقرری کے اس خاص منصوبے کے بعد جو رد عمل سامنے آرہا ہے اس سے تشویش ناک صورت حال پیدا ہوگئ ہے بے روزگار نوجوان سڑکوں پر اتر ئے ہیں  

    حکومت کی اگنی پتھ اسکیم اب سرکار کے گلے کی ہڈّی بنتی جارہی ہے ، ملک کی افواج میں تقرری کے اس خاص منصوبے کے بعد جو رد عمل سامنے آرہا ہے اس سے تشویش ناک صورت حال پیدا ہوگئ ہے بے روزگار نوجوان سڑکوں پر اتر ئے ہیں  

    حکومت کی اگنی پتھ اسکیم اب سرکار کے گلے کی ہڈّی بنتی جارہی ہے ، ملک کی افواج میں تقرری کے اس خاص منصوبے کے بعد جو رد عمل سامنے آرہا ہے اس سے تشویش ناک صورت حال پیدا ہوگئ ہے بے روزگار نوجوان سڑکوں پر اتر ئے ہیں  

    • Share this:
    لکھنؤ: افواج میں تقرری کی نئی اسکیم ’اگنی پتھ‘ کو لے کر مختلف علاقوں  شہروں اور ریاستوں میں احتجاج کی رفتارتیز ہوتی جارہی ہے۔ اترپردیش کے مختلف شہروں کے نوجوان بھی سڑکوں پر اترکرحکومت کی اس اسکیم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے مطابق، یہ ایک تعمیری اور تاریخی قدم ہے، اس سے ہزاروں بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور افواج بھی مستحکم ہوں گی، جبکہ ملک کے نوجوان اسے اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کے منافی مان رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ دفاعی امور کے کچھ ماہرین بھی اس فیصلے کی افادیت پر شبہات کا اظہار کررہے ہیں۔

    بے روزگار نوجوان بالخصوص فوج میں بھرتی و تقرری کی خواہش رکھنے والا نوجوان طبقہ اب حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتا ہوا مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے جو موجودہ نظام کے لئے ایک اچھا اشاریہ نہیں ، اگنی پتھ کیا ہے اور اس میں بھرتی کیے جانے والے اگنی ویروں کو کیا سہولیات فراہم کی جائیں گی، حال اور مستقبل میں کیا کچھ مراعات ملیں گی اس حوالے سے آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے بتایا کہ اگلے 90 دنوں کے اندر اگنی پتھ اسکیم کے تحت تقرریاں شروع ہو جائیں گی۔

    اترپردیش کے مختلف شہروں کے نوجوان بھی سڑکوں پر اترکرحکومت کی اس اسکیم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
    اترپردیش کے مختلف شہروں کے نوجوان بھی سڑکوں پر اترکرحکومت کی اس اسکیم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔


    نئے'اگنی ویروں‘ کی عمر ساڑھے 17 برس سے 21 برس کے درمیان ہو گی۔ انہیں ابتدائی تین برسوں میں ماہانہ 30 ہزار روپے اور چوتھے برس 40 ہزار روپئے تنخواہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تنخواہوں کا 30 فیصد 'سیوا ندھی' پروگرام کے تحت کاٹ لے گی اور اتنی ہی رقم اپنی جانب سے ایک مخصوص فنڈ میں جمع کرائے گی جسے چار سال کی ملازمت کی مدت کے اختتام پر سود سمیت واپس لوٹا دیا جائے گا۔ یہ رقم تقریباً 12لاکھ بنے گی، جس پر ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔

    اس منصوبے سے بھارتی فوج میں تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی ایک بڑی رقم کی بچت ہو گی، جو گزشتہ چند برسوں سے بھارتی فوج کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی موجودگی میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی طرف سے 'اگنی پتھ' منصوبے کے اعلان کے موقع پر حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا، "دفاعی پالیسی میں یہ ایک اہم اصلاح ہے، یہ فورا ً نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس سے فوج کے تینوں شعبوں میں تقرری ہو گی اور اس اسکیم کے تحت مقرر کیے جانے والے فوجیوں کو 'اگنی ویر' کہا جائے گا۔ خواتین بھی 'اگنی ویر‘ بن سکتی ہیں۔‘‘اس موقع پر حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ دفاعی پالیسی میں یہ ایک اہم اصلاح ہے اور یہ فوراً نافذ العمل ہوگیا ہے۔ اس سے فوج کے تینوں شعبوں میں تقرری ہو گی اور اس منصوبے کے تحت مقرر کیے جانے والے فوجیوں کو ‘اگنی ویر’ کہا جائے گا۔ خواتین بھی ‘اگنی ویر‘ بن سکتی ہیں۔‘‘

    ان تمام تر اعلانات و بیانات کے بعد ملک کے نوجوان سڑکوں پر اتر آئیں اتر پردیش کے مختلف شہروں میں سڑکیں اور ریلوے ٹریک جام کئے جارہے ہیں، مشتعل نو جوان موجودہ اقتدار اور اس کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کررہے ہیں، لیکن ان تمام مظاہروں اور احتجاجوں کے رد عمل کے بطور حکومت اور متعلقہ محکموں کی جانب سے کسی بھی طرح کی تبدیلی کے اشارے نہیں دیئے گئے ہیں۔
    افواج میں تقرری کی نئی اسکیم ’اگنی پتھ‘ کو لے کر مختلف علاقوں شہروں اور ریاستوں میں احتجاج کی رفتارتیز ہوتی جارہی ہے۔ اترپردیش کے مختلف شہروں کے نوجوان بھی سڑکوں پر اترکرحکومت کی اس اسکیم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: