ہوم » نیوز » وطن نامہ

چھاتی کا سرطان موذی مرض ضرور ہے ، اس سے زندگی ختم نہیں ہوتی، وقت پر تشخیص کی ضرورت :ڈبلیو ایچ او

نئی دہلی: بریسٹ کینسر، جسے عموماً چھاتی کا سرطان بھی کہا جاتا ہے، موذی مرض ضرورہے، لیکن اگر تشخیص وقت پر ہوجائے ، تو اس کا علاج کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 07, 2018 01:30 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
چھاتی کا سرطان موذی مرض ضرور ہے ، اس سے زندگی ختم نہیں ہوتی، وقت پر تشخیص کی ضرورت :ڈبلیو ایچ او
فوٹو: یو این آئی

نئی دہلی:  بریسٹ کینسر، جسے عموماً چھاتی کا سرطان بھی کہا جاتا ہے، موذی مرض ضرورہے، لیکن اگر تشخیص وقت پر ہوجائے ، تو اس کا علاج کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ عالمی صحت ادارہ (ڈبلو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق 2011 میں دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے تقریباً پانچ لاکھ عورتوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر خواتین کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان میں حیران کن تبدیلیاں اسی وجہ سے ہی ہو رہی ہیں کہ ان میں بریسٹ کینسر کے مرض کا خدشہ ہے۔


واضح رہے کہ دنیا میں عورتوں کے ہونے والے کینسر میں اب بریسٹ کینسر سر فہرست ہے ۔یہ مرض زیادہ تر پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کے درمیان کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہی ہیں۔بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک میں پائی جاتی ہیں، بلکہ حیران کن طور پر ترقی پذیر ممالک کی خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔


دنیا بھر کی خواتین میں چھاتی کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلو ایچ او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں خاص طور پر بریسٹ کینسر کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ وہاں اب اوسطً عمر بڑھ رہی، لوگ شہروں میں رہ رہے ہیں اور مغربی طرز کی زندگی اختیار کر رہے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق بریسٹ کینسر کیوں ہوتا ہے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں دیر تک حیض جاری رہنا اور زیادہ عمر میں پہلے بچے کی پیدائش وغیر شامل ہیں یعنی بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔لیکن جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہ بریسٹ کینسر سے زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔



ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بیماری کی طرح بریسٹ کینسر کی بھی کچھ ایسی واضح اور عام علامات ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بریسٹ کینسر کا مرض شروع ہو رہا ہے۔ اس مرض میں عام طور پر خواتین کی ہڈیوں، جوڑوں، جسم کے دیگر حصوں اور سر میں مسلسل درد رہتا ہے۔ وزن بڑھنا اور کمر کا پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں چھاتیوں کے اطراف واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ چھاتی کے ارد گرد جلد میں ڈمپل پڑ جاتے ہیں اور جلد میں جھریاں پڑنے لگتی ہیں۔ بازوں اور چھاتی کے ارد گرد والی جلد پر زخم جیسے نشانات پیدا ہوتے ہیں اور ان سے گندگی کا نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق بریسٹ کینسر کے زیادہ تر مریضوں کو سرجری، کیموم تھراپی، ریڈیو تھراپی اور ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کی ضرورت پڑتی ہے۔


کیموتھراپی کینسر کے خلیات کو تباہ کرتی ہے لیکن اس کے کئی مضر اور خطرناک اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اب ایک غیر معمولی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اس کے بغیر بھی ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزار سکتی ہیں۔لیکن اس زمرے میں بریسٹ کینسر کے سب مریض نہیں آتے یا ہر طرح کا بریسٹ کینسر نہیں آتا۔ اگر کچھ شرائط پوری ہوں اور مرض ابتدائی مراحل میں ہو، تو ایک ٹیسٹ ہے جو یہ بتا سکتا ہے کہ کیموتھراپی کی جانی چاہیے یا نہیں۔
اس ٹیسٹ کو'آنکو ٹائپ ڈی ایکس' کہتے ہیں اور اس سے بنیادی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کنسر کے دوبارہ ہونے کے کیا امکانات ہیں یا کینسر کتنا 'اگریسو' یا خطرناک ہے لیکن یہ بہت مہنگا ٹیسٹ ہے اور تقریباً تین لاکھ روپے میں ہوتا ہے۔


دوسری بڑی تحقیق ابھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس میں مریض کے جسم سے وہ خلیات حاصل کیے جاتے ہیں جو کینسر کے خلیات کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قدرتی مدافعتی نظام کا حصہ ہے۔ مدافعتی نظام کامیاب رہے تو مرض کنٹرول یا ختم ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ان خلیات کو نکال کر لیب میں ان کا تجربہ کرکے پھر واپس جسم میں ڈال دیا۔ہندستانی میں بریسٹ کینسر ابھی ترقی یافتہ دنیا کے مقابلے میں کم ہے لیکن فرق یہ ہے کہ یہاں اس کا پتا اس وقت چلتا ہے جب مرض بڑھ چکا ہو اور اس لیے علاج مشکل ہو جاتا ہے۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012 میں دنیا بھر میں سولہ لاکھ ستر ہزار عورتیں بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئیں۔ ہندستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار 
First published: Jun 07, 2018 01:30 PM IST