உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Janmashtami 2022: جنم اشٹمی پر ہندو بھائیوں کو مسلمانوں کا خاص تحفہ، مسلم طلبا نے خون دے کر بچائی ہندو بھائیوں کی جان

    جنم اشٹمی کے موقع پر مسلم نوجوانوں نے ہندو بچوں کی بچائی جان

    جنم اشٹمی کے موقع پر مسلم نوجوانوں نے ہندو بچوں کی بچائی جان

    ندوۃ العلوم اور دیگر مدارس اسلامیہ کے 200 سے زیادہ طلبا نے اپنے ہندو بھائیوں اور دیگر مذاہب کے ضرورت مندوں کو خون دے کر ان کی جان بچائی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب جب وطن اور اہل وطن کو ضرورت پڑے گی ہم اپنا خون دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ اس ملک کی آزادی سے لے کر تعمیر و ترقی تک ہمارے اسلاف نے ہمیشہ قربانیاں پیش کی ہیں اور ہم بھی اسی روش کا اعادہ کرتے ہوئے ہر ممکن قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    لکھنو: پیام انسانیت فورم کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کی روشن اور خوبصورت تاریخ لکھنے کی عملی کوشش کی گئی۔ ندوۃ العلوم اور دیگر مدارس اسلامیہ کے 200 سے زیادہ طلبا نے اپنے ہندو بھائیوں اور دیگر مذاہب کے ضرورت مندوں کو خون دے کر ان کی جان بچائی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب جب وطن اور اہل وطن کو ضرورت پڑے گی ہم اپنا خون دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ اس ملک کی آزادی سے لے کر تعمیر و ترقی تک ہمارے اسلاف نے ہمیشہ قربانیاں پیش کی ہیں اور ہم بھی اسی روش کا اعادہ کرتے ہوئے ہر ممکن قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔

    قومی یکجہتی اور اتفاق واتحاد کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ جب ملک میں ایک طرف برادران وطن  ہمارے ہندوکش بھائی شری کرشن جی کا یومِ پیدائش منارہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف مدارس اسلامیہ کے طلبا اپنے برادران وطن کے لئے خون کا عطیہ پیش کررہے ہیں۔ پیامِ انسانیت کی جانب سے خون کا عطیہ پیش کرنے والے یہ طلبا کہتے ہیں کہ ہم یہ خدمت صرف اور صرف انسانیت کے لیے کررہے ہیں، ہم جانتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ مُٹّھی بھر نفرت پھیلانے والے لوگوں کو جواب دینے کا واحد راستہ محبت ہے  اور ہم محبت کو پھیلانے اور نفرت کو مٹانے کے لئے اپنا خون بھی دینے کے لئے تیار ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Janmashtami 2022: جنم اشٹمی پر فیض محمد نے پیش کی انسانیت کی مثال، ماں نے برقع پہن کر پہنایا مکٹ

    مولانا محمد ولید کہتے ہیں کہ وہ تحریک جو معروف عالم دین اور مفکر اسلام علی میاں نے خدمت خلق کے مقصد سے شروع کی تھی، اسی تحریک کو زندہ اور تابندہ رکھنے کے لئے ہم اس انداز کی کوششیں کر رہے ہیں۔ مولانا شفیق ندوی بھی یہی کہتے ہیں کہ صرف خون کا عطیہ ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی سماجی خدمات کے لئے ہمارے لوگ مختلف محاذوں پر کام کررہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پیام انسانیت فورم کے اراکین کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف بھی اب  لوگ کھلے دل سے کررہے ہیں۔

    ڈاکٹر جی پی گپتا کہتے ہیں  کہ پیامِ انسانیت کے لوگ اس سرزمین پر انسان نہیں بھگوان ہیں۔ ان کے خون سے ہم نے ہزاروں مریضوں کی جان بچائی ہے۔ انہیں ہمت، حوصلہ او زندگی ملی ہے۔ یہ لوگ انسانیت کی خدمت جس طرح کر رہے ہیں اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں  مدارس کے تقریباً ایک ہزار طلبا اپنا خون دے چکے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کا علاج اپنے پیسے سے کراچکے ہیں۔ جیل میں بند سیکڑوں قیدیوں کی رہائی کروا چکے ہیں۔ ساتھ ہی دیگر محاذوں پر بھی غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان تمام خدمات کے باوجود نہ ان لوگوں کو صلے کی پروا ہے اور نہ ستائش کی تمنا۔ یہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خدمت خلق کو وسیلہ بنارہے ہیں، ساتھ ہی انہیں یہ یقین بھی ہے کہ جو لوگ مدارس اور اسلام سے نفرت کرتے ہیں انہیں بھی ایک دن یہ احساس ہوجائے گا کہ اسلام کا مقصد نفرت کو ختم کرکے محبت کو پروان چڑھانا اور سماج کے سبھی ضرورت مندوں کے کام آنا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: