உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے بعد بہیمانہ قتل، نام نہاد نابالغ عاشق پرنس یادو گرفتار

    جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے بعد بہیمانہ قتل

    جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے بعد بہیمانہ قتل

    بتایا جاتا ہے کہ پرنس یادو نامی نوجوان نے لڑکی کو سیمسٹر کا اسائنمنٹ جمع کرنے کے بہانے بلایا تھا، جہاں اس کے اور بھی ساتھی موجود تھے۔ پھر اس نے لڑکی کی آبروریزی کی، پھر اسے زہر دے کر مار دیا اور پھانسی پر لٹکا دیا، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    رانچی: جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی بی کام سیمسٹر-6 کی طالبہ کے بہیمانہ قتل کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ دو ستمبر کو سمسٹر ٹو کا اسائنمنٹ جمع کرنے کے مقصد سے وہ اپنے گھر سے کالج کے لئے نکلی تھی، جس کے بعد وہ نہیں لوٹی۔ تب جاکر لڑکی کے گھر والوں نے صدر پولیس تھانہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ اس کے دوسرے دن پولیس نے متاثرہ کے گھر والوں کو تھانہ بلایا۔ پولیس کے ذریعہ اس کے گھر والوں کو بتایا گیا کہ لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ پیش آیا ہے اور قتل کر دیا گیا ہے۔ اس کی لاش ڈالٹین گنج کے برالوٹا نامی مقام میں ایک لاج میں پایا گیا ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ پرنس یادو نامی نوجوان نے لڑکی کو سیمسٹر کا اسائنمنٹ جمع کرنے کے بہانے بلایا تھا، جہاں اس کے اور بھی ساتھی موجود تھے۔ پھر اس نے لڑکی کی آبروریزی کی، پھر اسے زہر دے کر مار دیا اور پھانسی پر لٹکا دیا، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہے۔ لاش کا معائنہ کرنے پر یہ واضح ہو رہا تھا کہ قتل سے پہلے لڑکی کو کافی زدو کوب کیا گیا تھا۔ لڑکی کے دانتوں کے درمیان لوہےکی کیل ٹھونکی گئی تھی اور اس کے جسم پر زخم کے نشانات تھے۔جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ قتل سے پہلے اسے بہت تڑپایا گیا تھا۔

    جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی بی کام سیمسٹر-6 کی طالبہ کے بہیمانہ قتل کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔
    جھارکھنڈ کے ہزاری باغ کی بی کام سیمسٹر-6 کی طالبہ کے بہیمانہ قتل کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔


    وہیں چند نام نہاد آن لائن نیوز پورٹل پر غلط خبر چلانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک پر دوستی اور محبت کے بعد شادی کے معاملے میں جب مذہب کی دیوار آڑے آئی تو دونوں پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، جس میں لڑکی کی موت ہوگئی جبکہ اس کا نام نہاد نابالغ عاشق پرنس یادو کی جان بچ گئی۔ انڈین یونین مسلم لیگ نے اس قتل معاملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ لیگ کے ریاستی ترجمان محمد شہاب الدین نے لڑکی کے گھر والوں سے ملاقات کرکے تعزیت پیش کی۔ ساتھ ہی انہیں انصاف دلانے کیلئے ہر ممکن قانونی مدد فراہمی کا یقین دلایا۔ شہاب الدین نے انتظامیہ سے جلد از جلد اس معاملے کے قصوروار کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم پولیس تفتیش میں مصروف ہو گئی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: