உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناگپور میں طالبان سے وابستہ شخص 10 سال سے نام بدل کرشہر میں مقیم تھا، انکشاف ہونے کے بعد تحقیقاتی ایجنسیاں الرٹ 

    ناگپور پولیس نے نور محمد کو 16 جون 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میڈیکل ٹیسٹ میں اس کے جسم پر گولیوں کے نشانات پائے گئے، اس کے موبائل فون سے کئی ویڈیوز بھی پائی گئی تھیں۔ افغانستان سفارت خانے کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ وہ افغان شہری تھا، اسے یہاں سے جلاوطن کر کے اس کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔

    ناگپور پولیس نے نور محمد کو 16 جون 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میڈیکل ٹیسٹ میں اس کے جسم پر گولیوں کے نشانات پائے گئے، اس کے موبائل فون سے کئی ویڈیوز بھی پائی گئی تھیں۔ افغانستان سفارت خانے کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ وہ افغان شہری تھا، اسے یہاں سے جلاوطن کر کے اس کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔

    ناگپور پولیس نے نور محمد کو 16 جون 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میڈیکل ٹیسٹ میں اس کے جسم پر گولیوں کے نشانات پائے گئے، اس کے موبائل فون سے کئی ویڈیوز بھی پائی گئی تھیں۔ افغانستان سفارت خانے کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ وہ افغان شہری تھا، اسے یہاں سے جلاوطن کر کے اس کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔

    • Share this:
      افغانستان پر مکمل طور پر طالبان کے شدت پسندوں کےقبضے کے بعد ایک تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ناگپور پولیس کی اسپیشل برانچ کے ذرائع نے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات حاصل کرنے کے لئے کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ تصویر نور محمد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس معاملے میں کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تصویر نور محمد عرف عبدالحق کی بتائی جا رہی ہے۔ نور محمد کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ وہی شخص ہے، جسے 23 جون 2021 کو ناگپور سے افغانستان بھیجا گیا تھا، اس کی عمر 30 سال ہے۔  نور محمد تقریباً 10 سال تک ناگپور میں اپنی شناخت چھپا کر رہ رہا تھا۔

      نور محمد کے دہشت گرد ہونے کی اطلاع کے بعد ناگپور پولیس ایک بار پھر الرٹ ہوگئی ہے اور ان لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، جو اس کے قیام کے دوران اس سے ملے تھے۔ واضح رہے کہ جون کے مہینے میں ناگپور پولیس نے نور محمد کو 16 جون 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میڈیکل ٹیسٹ میں اس کے جسم پر گولیوں کے نشانات پائے گئے، اس کے موبائل فون سے کئی ویڈیوز بھی پائی گئی تھیں۔ افغانستان سفارت خانے کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ وہ افغان شہری تھا، اسے یہاں سے جلاوطن کر کے اس کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔

      ناگپور پولیس کی اسپیشل برانچ کے ذرائع نے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات حاصل کرنے کے لئے کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ تصویر نور محمد کی ہے۔
      ناگپور پولیس کی اسپیشل برانچ کے ذرائع نے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات حاصل کرنے کے لئے کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ تصویر نور محمد کی ہے۔


      ناگپور پولیس کے مطابق نور محمد 2010 میں 6 ماہ کے سیاحتی ویزے پر یہاں آیا تھا۔ بعد میں اس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آرسی) کو اپنے لئے پناہ گزین کا درجہ دینے کے لئے درخواست دی، لیکن اس کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ تب سے وہ ناگپور میں غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا۔ نور محمد غیر شادی شدہ تھا اور یہاں کمبل فروخت کرتا تھا، گرفتاری کے بعد پولیس کو اس کے کرائے کے مکان کی تلاشی لی مگر زیادہ کچھ نہیں ملا۔ ایک اور پولیس افسر نے بتایا کہ نور محمد کا اصل نام عبدالحق ہے اور اس کا بھائی طالبان کے ساتھ کام کرتا تھا۔

      گزشتہ سال نور محمد نے ایک ویڈیو خطرنا ہتھیار کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔
      گزشتہ سال نور محمد نے ایک ویڈیو خطرنا ہتھیار کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔


      گزشتہ سال نور محمد نے ایک ویڈیو خطرنا ہتھیار کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ پکڑے جانے کے بعد پولیس کو پتہ چلا کہ اس کےجسم کے بائیں کندھے کے پاس گولیوں کے نشانات تھے، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ کچھ دہشت گردوں کی پیروی کر رہا تھا۔ نور محمد کی تصویر جو منظر عام پر آئی ہے وہ ایل ایم جی کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ ساتھ ہی اس کے گلے اور جسم پر گولیوں کی بیلٹیں بندھی ہوئی ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ وہ ایک سیلیپرکے طور پرکام کر رہا تھا۔ ناگپور پولیس ذرائع کے مطابق، این آئی اے اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے نورمحمد کی معلومات ناگپور پولیس سے لی ہیں اور اس سے کہا ہے کہ وہ جس جگہ پر رہتا ہے، اس کی دوبارہ تحقیقات کرے۔ اس معاملے میں ابھی کچھ کہنا درست نہیں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: