உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: ہولی پر بھوپال میں پیش کی گئی یکجہتی کی انوکھی مثال

    ہولی پر بھوپال میں پیش کی گئی یکجہتی کی انوکھی مثال

    ہولی پر بھوپال میں پیش کی گئی یکجہتی کی انوکھی مثال

    رنگوں، امنگوں اور محبتوں کا تہوار ہولی بھوپال میں قومی یکجہتی کی نایاب مثال کے طور پر منایا گیا۔ گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ شہر بھوپال میں ہولی، جمعہ اور شب برات ایک ساتھ آنے پر نہ صرف خندہ پیشانی سے سبھی کا استقبال کیا گیا۔ بلکہ ایک دوسری کے تہواروں میں شامل ہوکر اس طرح سے محبتوں کی خوشبو بکھری گئی کہ لوگ دیکھتے رہ گئے۔

    • Share this:
    بھوپال: رنگوں، امنگوں اور محبتوں کا تہوار ہولی بھوپال میں قومی یکجہتی کی نایاب مثال کے طور پر منایا گیا۔ گنگا جمنی تہذیب  کے نمائندہ شہر بھوپال میں ہولی، جمعہ اور شب برات ایک ساتھ آنے پر نہ صرف خندہ پیشانی سے سبھی کا استقبال کیا گیا۔ بلکہ ایک دوسری کے تہواروں میں شامل ہوکر اس طرح سے محبتوں کی خوشبو بکھری گئی کہ لوگ دیکھتے رہ گئے۔ راجدھانی بھوپال میں ہولی کے موقعہ پر عام طور پر چل سماروہ گیارہ بجے کے بعد نکلتا ہے اور شہر کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا پیر گیٹ پردو بجے کے بعد ختم ہوتا ہے، لیکن امسال ہولی ،جمعہ اور شب برات کے سبب ہندو بھائیوں نے مسلمانوں کی نماز جمعہ میں خلل نہ پڑے۔ انہوں نے ہولی کے چل سماروہ کو نماز سے ایک گھنٹے قبل ہی ختم کردیا۔ یہی نہیں جب ہولی کھیلنے کے دوران پانی کی کمی پڑی اور نگر نگم کے ٹینکر وقت پر نہیں پہنچے تو مسلم سماج کے لوگوں نے اپنے گھروں سے پانی فراہم کیا تاکہ ہندو بھائیوں کے تہوار کا رنگ پھیکا نہ پڑے۔
    بھوپال کے آنند سنگھ سینگر کہتے ہیں کہ بھوپال کو یوں ہی تہذیبوں کا نگر نہیں کیا جاتا ہے۔ لوگ دوسرے شہروں کی بے بنیاد باتوں کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں لیکن بھوپال میں یہاں کا ہندو اور مسلمان جسم اور روح کا رشتہ رکھتا ہے۔ نوابی عہد میں بھی نواب صاحب ایک دن بھوپال میں تو دوسرے دن سیہور میں ہولی کھیلتے ہیں اور آج بھی سیہور میں ہولی ایک دن منائی جاتی ہے ۔ہولی کے دن ہی جمعہ کا پاک دن اور آج شب برات کی وہ مقدس رات ہے، جس کا ہر مسلمان کو شدت سے انتظار رہتا ہے ۔ ہم لوگوں نے ہولی کھیل کر اپنے دیوتا کو خوش کیا اور مسلمان بھائی نمازیں پڑھ کر اور رات میں شب بیداری کرکے جب رب کو خوش کریں گے اور ان کی دعائیں قبول ہونگی تو ہمارا ملک ہی تو ترقی کرے گا۔

    رنگوں، امنگوں اور محبتوں کا تہوار ہولی بھوپال میں قومی یکجہتی کی نایاب مثال کے طور پر منایا گیا۔
    رنگوں، امنگوں اور محبتوں کا تہوار ہولی بھوپال میں قومی یکجہتی کی نایاب مثال کے طور پر منایا گیا۔


    وہیں بھوپال کے سماجی کارکن عبدالنفیس کہتے ہیں کہ تہذیبوں کو پروان چڑھانے میں سرکاریں نہیں بلکہ عوام کا سروکار ہوتا ہے ۔آج سی ایم ہاؤس میں جہاں ہولی کھیلی گئی وہیں سڑکوں،چوراہوں پر بھی جم کر ہولی کھیلی گئی ۔دو سال بعد پہلی بار بغیر کسی پابندی کے ہولی کھیلنے کا موقع ہمارے برادران وطن کو ملا تھا اور ہم کی خوشی کا حصہ بنے یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔

    حالانکہ نگر نگم کے ذریعہ شہر کے سبھی وارڈوں میں ٹینکر سے پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پانی نہیں پہنچنے کے سبب پیر گیٹ پر سبودھ جی اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے پانی کی کمی کو لیکر احتجاج کیا لیکن جب سماج کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ پانی کی کمی سے ہمارے برادران وطن کی خوشیاں پھیکی پڑ رہی ہیں تو لوگوں نے نہ صرف اپنے گھروں سے پانی فراہم کیا بلکہ ٹینکر سے بھی ہولی کھیلنے والوں پر پانی برسائے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ محبتوں کا یہ رنگ ہمیشہ برقرار ہے اور اسے سیاست کی نظر نہ لگے۔ ہولی، جمعہ اور شب برات ایک ساتھ ہونے کے سبب محکمہ پولیس کی جانب سے شہر میں سخت سیکوریٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔ شہر میں چوکسی بڑھانے کے ساتھ دوہزار پولیس اہلکاروں کو جگہ جگہ پر تعینات کیاگیا ہے تاکہ سبھی لوگ پرامن طریقے سے اپنی عبادت کو انجام دے سکیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: