ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

لاک ڈاون کے دوران کشمیر میں خاتون کی موت، گاڑی دستیاب نہ ہونےکی وجہ سے اسپتال پہنچنے میں ہوئی تاخیر

درد زہ میں مبتلا مسرت اپنے ہی گھر مردہ بچی کو جنم دینے کے بعد اسپتال میں موت کی آغوش میں چلی گئی، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • Share this:
لاک ڈاون کے دوران کشمیر میں خاتون کی موت، گاڑی دستیاب نہ ہونےکی وجہ سے اسپتال پہنچنے میں ہوئی تاخیر
لاک ڈاون کے دوران کشمیر میں خاتون کی موت

اننت ناگ: جنوبی کشمیر کے پیر پنچال پہاڑیوں میں آباد اور قدرتی خوبصورتی کی دولت سے مالامال منزموہ دولت آباد اس وقت ماتم کناں ہے۔ کیونکہ علاقے کی ایک ہر دل عزیز خاتون مسرت جان یہاں کے لوگوں کے بیچ نہیں رہیں۔ درد زہ میں مبتلا مسرت اپنے ہی گھر مردہ بچی کو جنم دینے کے بعد اسپتال میں موت کی آغوش میں چلی گئی، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جبکہ لوگ علاقے کی پسماندگی اور لاک ڈاؤن کو اس کی موت کی وجہ سے تعبیر کر رہے ہیں۔


دراصل حاملہ مسرت جان کو کچھ دن قبل اننت ناگ کے جی ایم سی میں درد کی شکایت کے بعد بھرتی کیا گیا، لیکن وہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی طبعیت کو صحیح قرار دے کر اسے گھرکے لئےڈسچارج کیا۔ جبکہ مسرت کے شوہر ریاض مغل کا کہنا ہےکہ 7 مئی کو ہی مسرت کو اگرچہ طبی شکایت کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں بھرتی کرایا گیا، لیکن وہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی بروقت جانچ کے بجائے اسے گھر لے جانے کا مشورہ دیا جبکہ اس کی زچگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسرت کو یو ایس جی یا کوئی اور ٹیسٹ کرنے کی صلاح نہیں دی گئی۔


ریاض کے مطابق ڈاکٹری تجویز کے بعد مسرت کو گھر لے جایا گیا اور 9 مئی کو مسرت نے اپنے ہی گھر میں مردہ بچی کو جنم دیا۔ ریاض کے مطابق اس دوران مسرت کی حالت خراب ہوگئی اور علاقے میں سڑک رابطہ نہ ہونےکی وجہ سے لوگوں نے مسرت کو چارپائی پر اٹھا کر 3 کلومیٹر کا سفر پیدل طےکیا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ منزموہ میں سڑک پر پہنچنے کے بعد لاک ڈاؤن نے مزید دشواریاں پیدا کیں اور گھنٹوں انتظار کے بعد گاڑی کا انتظام کیا گیا اور مسرت کو قاضی گنڈ اسپتال پہنچایا گیا۔ اس دوران لاک ڈاؤن کے لئے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبرات سے بھی کچھ حاصل نہ ہوسکا۔  قاضی گنڈ میں ڈاکٹروں نے اسے اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال منتقل کیا۔


ریاض کے مطابق اس دوران مسرت کی حالت خراب ہوگئی اور علاقے میں سڑک رابطہ نہ ہونےکی وجہ سے لوگوں نے مسرت کو چارپائی پر اٹھا کر 3 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فائل فوٹو
ریاض کے مطابق اس دوران مسرت کی حالت خراب ہوگئی اور علاقے میں سڑک رابطہ نہ ہونےکی وجہ سے لوگوں نے مسرت کو چارپائی پر اٹھا کر 3 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فائل فوٹو


ریاض کے مطابق جوں ہی مسرت کو اسپتال پہنچایا گیا تو دن بھر کی جدو جہد کے بعد وہ زندگی سے جنگ ہار گئی۔ رشتہ داروں نے ڈاکٹری لاپرواہی کے ساتھ ساتھ علاقے کی جانب سے سرکار و ارباب اقتدار کی سرد مہری کو مسرت کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مسرت کے رشتہ دار پرویز مغل کے مطابق علاقے میں سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات ایک معمول کی بات ہے۔ جبکہ علاقے میں طبی نظام پر بھی کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ پرویز کے مطابق نیشنل ہیلتھ مشن جیسی اسکیموں سے بھی لوگوں کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ مسرت کی مدد کےلئے نا ہی کوئی مقامی آشا یا ہیلتھ ورکر سامنے آئی اور نا ہی مزموہ سے اسے لے جانے کےلئے ایمبولینس فراہم کی جا سکی۔

پرویز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن دولت آباد جیسے علاقوں کےلئے باعث مصیبت ہے کیونکہ سرکار یا انتظامیہ نے کنڈی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ دریں اثنا گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت گیلانی نے مسرت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسرت کی موت اس کے گھر میں زچگی ہونے اور اسپتال بروقت نہ پہنچنے کی پاداش میں ہوئی ہے۔ جبکہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دیہی علاقوں میں اب بھی لوگ گھروں میں ہی زچگی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ادھر مسرت کو زچہ بچہ اسپتال میں بھرتی کرتے وقت وہاں پر موجود ڈاکٹر قرات کا کہنا ہے کہ مسرت کو نیم مردہ حالت میں اسپتال پہنچایا گیا اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جو رائیگاں ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر قرات نے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا کہ مسرت کی موت اسپتال پہنچنے میں تاخیری کی وجہ سے ہوئی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسرت کے اسپتال سے دوری کےلئے کون سے وجوہات ہیں اور کیا انتظامیہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہوئی۔ جبکہ طبی نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے متعلقین کی جانب سے عدم سنجیدگی کے روئے کو بھی دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
First published: May 11, 2020 01:24 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading