یوم اساتذہ پرخصوصی پیشکش: عائشہ انصاری سماج کوتعلیم یافتہ بنانے کےلئےغریب بچیوں کےلئےاس طرح انجام دے رہی ہیں خدمات

میرٹھ کے پسماندہ علاقےاحمد نگرسےتعلق رکھنے والی عائشہ نےمشکل حالات کے باوجود نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم کی اہمیت کوسمجھتےہوئےاب اپنےعلاقے کےغریب اورضرورتمند بچوں کوتعلیم کی راہ پرگامزن کرنےکی کوشش کررہی ہیں۔

Sep 05, 2019 10:10 PM IST | Updated on: Sep 05, 2019 10:16 PM IST
یوم اساتذہ پرخصوصی پیشکش: عائشہ انصاری سماج کوتعلیم یافتہ بنانے کےلئےغریب بچیوں کےلئےاس طرح انجام دے رہی ہیں خدمات

عائشہ انصاری جیسی لڑکیاں سماج کے لئے بن رہی ہیں مثال

سماج میں استاد کی حیثیت اس سنگ تراش کی ہوتی ہے، جوایک پتھریا کچی مٹی کوایک خوبصورت شکل دے کراس میں جان ڈال دیتا ہے۔  ہمارے سماج میں آج بھی ایسےکئی افراد موجود ہیں جو سماج کےضرورتمند طبقےکے بچوں تک تعلیم کی روشنی پہنچانےکےلئے خصوصی خدمات انجام دے رہے ہیں۔  میرٹھ کی عائشہ انصاری ایسی ہی ایک مثال ہیں جو گزشتہ پانچ برسوں سےعلاقےکےغریب اورضرورتمند بچوں کےلئےتعلیمی خدمات انجام دیتے ہوئےان بچوں کواسکولوں کی دہلیزتک بھی پہنچانے کی کوشش کررہی ہیں۔

جاہلیت کےاندھیرے کوختم کرنےکےلئےتعلیم کی شمع کوروشن کرنا ضروری ہے۔ اس فکر کواپنا مقصد بنا کرمیرٹھ کی عائشہ انصاری نےاپنےعلاقےکےغریب بچوں کوتعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ میرٹھ کے پسماندہ علاقے احمد نگرسےتعلق رکھنے والی عائشہ نےمشکل حالات کے باوجود نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم کی اہمیت کوسمجھتے ہوئےاب اپنےعلاقے کےغریب اورضرورتمند بچوں کوتعلیم کی راہ پرگامزن کرنے کی کوشش انجام دے رہی ہیں۔

Loading...

میرٹھ میں تعلیمی خدمات انجام دینے والی عائشہ انصاری کی غریب طبقےکے بچوں کے ساتھ تعلیم نسواں پر خاص توجہ۔ میرٹھ میں تعلیمی خدمات انجام دینے والی عائشہ انصاری کی غریب طبقےکے بچوں کے ساتھ تعلیم نسواں پر خاص توجہ۔

سماج اورملک کا مستقبل تعلیم کی روشنی سے ہی تابناک ہوسکتا ہے ۔ یوم اساتذہ کےموقع پر ہماری اس خاص پیشکش کےذریعہ نیوز ١٨ اردوایسےاساتذہ کوسلام کرتا ہے، جواپنی خصوصی خدمات انجام دے کرملک کےمستقبل کوبہتربنانےکی کوشش کررہے ہیں۔ عائشہ انصاری نےنیوز١٨ اردو سے بات کرتے ہوئےکہا کہ انہوں نے یہ سلسلہ پانچ سال قبل شروع کیا تھا کیونکہ جب میں نے دیکھا کہ میرے آس پاس کے بچےغریب ہونےکےناطے تعلیم نہیں حاصل کرپا رہےتھے، اس لئےمیں ان کے والدین سےبات کرکے خود تعلیم دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نےکہا کہ میں ان بچوں کو تھوڑا پڑھا کراسکولوں میں داخلہ کراتی رہی۔ تقریباً پچاس بچےایسے ہیں، جوتعلیم حاصل کررہے ہیں۔ عائشہ نے یہ بھی بتایا کہ میں نے خصوصی طورپرلڑکیوں کی تعلیم پرتوجہ دی۔

قابل ذکر ہے کہ اسماعیل ڈگری کالج سےگریجویشن کرنےکےبعد عائشہ انصاری بی ٹی سی کا کورس بھی کررہی ہیں۔ خود تعلیم حاصل کرتے ہوئے ضرورتمند طبقےکی تعلیمی ضرورت کو پورا کرنےکےاس جذبےکوعائشہ کے استاد بھی سلام کرتے ہیں اورفخر محسوس کرتے ہیں۔

تنظیرانصارکی خصوصی رپورٹ

Loading...