உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اروناچل سے اغوا کیے گئے لڑکے کو چینی فوج نے دئیے تھے بجلی کے جھٹکے، ہندوستان نے اٹھایا سخت قدم

    ہندوستانی نوجوان میرام تارون ۔ (تصویر:Twitter/@TapirGao)

    ہندوستانی نوجوان میرام تارون ۔ (تصویر:Twitter/@TapirGao)

    وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ چین نے وادی گلوان کے معاملے پر سیاست کی ہے۔ ہندوستان نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی ہندوستانی سفارتکار سرمائی اولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ چین نے اولمپکس جیسے ایونٹ پر سیاست کی۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ہندوستان نے اروناچل پردیش(Arunachal Pradesh) سے اغوا ہونے والے ہندوستانی نوجوان کو ہراساں کرنے کا معاملہ چین (China)کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ہندوستان کا الزام ہے کہ اس نوجوان کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اروناچل پردیش کے رہنے والے میرام تارون (Miram Taron)کو اغوا کیا گیا تھا اور اسے گزشتہ ہفتے ہی رہا کیا گیا تھا۔

      متاثرہ نوجوان میرام نے بتایا کہ چینی فوج نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔ اسے مارا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ میرام کے والد اوپانگ تارون نے بتایا کہ ان کا بیٹا ذہنی طور پر بہت پریشان ہے اور اس واقعے سے بہت خوفزدہ ہے۔ دراصل 17 سالہ میرام تارون اروناچل پردیش کے سیانگ ضلع کے جیڈو گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وہ 18 جنوری کو اچانک لاپتہ ہو گیاتھا۔ 27 جنوری کو چینی فوج نے اسے واچا دمائی میں ہندوستانی فوج کے حوالے کر دیا تھا۔

      ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے اس معاملے پر کہا کہ ہم نے یہ مسئلہ چین کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اس بارے میں دیگر معلومات فوج کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اسی دوران وادی گلوان تنازع میں ملوث چینی فوجی کیو فاباؤ بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مشعل راہ بننے پر بھی ہندوستانی وزارت خارجہ نے ردعمل کا اظہار کیا۔

      وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ چین نے وادی گلوان کے معاملے پر سیاست کی ہے۔ ہندوستان نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی ہندوستانی سفارتکار سرمائی اولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ چین نے اولمپکس جیسے ایونٹ پر سیاست کی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: