உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اے سی بی کی چھاپہ ماری کے بعد عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان گرفتار، قریبی لوگوں کے گھر سے 24 ملنے کا الزام

    اے سی بی کی چھاپہ ماری کے بعد عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی امانت اللہ خان گرفتار

    اے سی بی کی چھاپہ ماری کے بعد عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی امانت اللہ خان گرفتار

    اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے جمعہ کی شب اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو گرفتار کرلیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے جمعہ کی شب اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اے سی بی کو ان کے خلاف قابل اعتراض اشیا اور ثبوت ملے ہیں۔ انہیں کی بنیاد پر جمعہ کے روز یہ بڑی کارروائی کی گئی ہے۔

      اے سی بی نے ان سے تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کی پوچھ گچھ کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری اے سی بی دہلی کے کیس ایف آئی آر نمبر 5/2020 میں شامل ہونے کے الزام میں کی گئی ہے۔ اس سے پہلے آج صبح اے سی بی نے امانت اللہ خان کے کچھ ٹھکانوں پر چھاپے مارے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ دو ٹھکانوں سے 24 لاکھ روپئے نقد برآمد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امانت اللہ خان کے بزنس پارٹنر کے پاس سے ہتھیار اور کارتوس بھی ملے تھے۔

      دہلی ہائی کورٹ سے مل چکی ہے راحت

      دوسری طرف، دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو راحت بھی دی۔ دہلی کے شاہین باغ میں بلڈوزر سے متعلق کارروائی میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے امانت اللہ خان پر معاملہ درج تھا۔ اب ہائی کورٹ نے اس معاملے میں نچلی عدالت میں چل رہی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ ساتھ ہی دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو نوٹس جاری کرکے تین ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر کو ہوگی۔

      اس سے قبل، امانت اللہ خان نے اے سی بی کے چھاپے پر ٹوئٹ کرکے کہا، ’مجھے پوچھ گچھ کے لئے اے سی بی (ACB) دفتر بلایاگ یا اور پیچھے سے میرے گھر والوں کو پریشان کرنے کے لئے دہلی پولیس کو بھیجا گیا۔ ایل جی صاحب، سچ کو کبھی آنچ نہیں آتی ہے، یاد رکھئے گا۔ مجھے اس ملک کے آئین اور عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے‘۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: