உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تین نابالغوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ملزم کوعمر قید کی سزا، 5 لاکھ کا جرمانہ

    تین نابالغوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ملزم کوعمر قید کی سزا، 5 لاکھ کا جرمانہ

    تین نابالغوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ملزم کوعمر قید کی سزا، 5 لاکھ کا جرمانہ

    ممبئی میں 35 سالہ وحشی کے ذریعہ تین نابالغوں کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے 3 سال عمر قید اور 5 لاکھ روپئے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ ایک ساتھ تین عمر قید کی سزا کا ملک میں پہلا معاملہ ہے۔

    • Share this:
    ممبئی: ممبئی میں 35 سالہ وحشی کے ذریعہ تین نابالغوں کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے 3 سال عمر قید اور 5 لاکھ روپئے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ ایک ساتھ تین عمر قید کی سزا کا ملک میں پہلا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ لوگوں کے لئے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ سارا معاملہ مہاراشٹر کے اکولہ شہرکے اکولہ جون سٹی تھانہ علاقے کے شیواجی نگر کے رہنے والے 35 سالہ چندرکانت جنگڈے نے 7-8 سال کی 3 کم عمر بچوں کا جنسی استحصال کیا۔ یہ پورا واقعہ 24 مارچ 2018 کو پیش آیا تھا۔

    ملزم چندرکانت جنگڈے کی بیٹی کی متاثرہ لڑکیاں سہیلیاں ہیں۔ یہ سب جنگڈے کے گھر کے قریب مندر کے احاطے میں کھیل کھیلتی تھیں۔ ایک دن جب ملزم کی بیوی اور بیٹی گھر پر نہیں تھے۔ ملزم نے تین نابالغ لڑکیوں کو  بہانے سے اپنے گھر پر لے گیا۔ گھر میں کھیلنے کے بہانے ان کا جنسی استحصال کیا اور دھمکی دی کہ اگر کسی سے کچھ کہا تو جان سے مار دوں گا۔ دھمکی کے بعد تینوں لڑکیاں کافی دباؤ میں تھیں، لیکن انہوں نے ساری باتیں اپنے والدین کو بتادیں۔

    اس پورے معاملے کے حوالے سے پولیس میں ایف آئی آر درج کی اور پاکسو ایکٹ کے تحت مکمل تحقیقات کے بعد یہ معاملہ عدالت میں آیا۔ پاکسو عدالت کے خصوصی بینچ کے سامنے سماعت ہوئی۔ جج وی ڈی پمپلکر نے مکمل سماعت کے بعد ملزم کو مجرم ٹھہرایا اور اسے 3 عمر قید اور 5 لاکھ روپئے جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ کسی ملزم کو بیک وقت تین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہو۔ نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کو ایسی سزا دینے کے بعد کہیں نہ کہیں یہ خوف ضرور پیدا ہو جائے گا کہ اس مجرم کو کسی طور پر نہیں بخشا نہیں جانا چاہئے اور ا سے  سخت  سےسزا ملنی چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: