ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کورونا بحران: یتیم بچوں کو غیر قانونی طورپراپنانے کے خلاف کارروائی کی جائے: سپریم کورٹ

جسٹس ایل ناگیشورا راؤ (L Nageswara Rao) اور انیرودھ بوس (Aniruddha Bose) کے بنچ نے ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے حکام سے غیر سرکاری تنظیموں یا غیر قانونی طور پر اپنانے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • Share this:
کورونا بحران: یتیم بچوں کو غیر قانونی طورپراپنانے  کے خلاف کارروائی کی جائے: سپریم کورٹ
علامتی تصویر

سپریم کورٹ (Supreme Court) نے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی این جی او کو متاثرہ بچوں کے نام پر رقوم اکٹھا کرنے سے روکے۔ سپریم کورٹ نے ان بچوں کو غیرقانونی طورپر کود لینے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے والدین کا کووڈ۔19 میں انتقال ہوگیا۔جسٹس ایل ناگیشورا راؤ (L Nageswara Rao) اور انیرودھ بوس (Aniruddha Bose) کے بنچ نے ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے حکام سے غیر سرکاری تنظیموں یا غیر قانونی طور پر اپنانے کے معاملوں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔


بینچ نے نشاندہی کی کہ کورونا بحران سے متاثرہ بچوں کو کسی بھی طرح کے Juvenile Justice Act, 2015  کی شقوں کے برخلاف جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ یتیم بچوں کو گود لینے کے لئے افراد کو دعوت دینا قانون کے منافی ہے،کیوں کہ بچوں گود لینے سے پہلے سینٹرل ایڈوپشن ریسورس اتھارٹیCentral Adoption Resource Authority یعنی CARA سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔



سنٹرل ایڈوپشن ریسورس اتھارٹی (Central Adoption Resource Authority) عدالت نے کہا کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے ذمہ داران ایجنسیوں / افراد کے خلاف ریاستی حکومتوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے ذریعہ سخت کارروائی کی جائے گی۔"یہ احکامات پیر کو حفاظتی گھروں میں بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک ازخود موٹو کے معاملے میں سامنے آئے ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے ذریعہ اپنے 'بال سوراج' پورٹل (‘Bal Swaraj’ portal ) پر اپ لوڈ کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چلڈرن رائٹس پروٹیکشن (این سی پی سی آر) نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سال یکم اپریل سے 5 جون 2021 کے درمیان 3621 بچے یتیم ہوگئے وہیں 26176 بچے والدین میں سے ایک کو کھو دیا اور 274 بچوں کو پورے ملک میں یوں ہی چھوڑ دیا گیا۔ کمیشن نے کہا ان اموات کا تعلق صرف کووڈ 19 سے نہیں تھا۔ یہ اموات دوسری وجوہات کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 09, 2021 10:34 AM IST