ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مجلس اتحاد المسلمین پر کانگریس کی سخت تنقید، ادھیر رنجن چودھری نے کہا- میں نہیں تو اویسی بھی مسلمانوں کا ٹھیکدار نہیں

کانگریس نے مجلس اتحاد المسلمین کے ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایم آئی ایم کے بدولت ہی بی جے پی بہار میں حکومت سازی میں کامیابی ہوئی ہے اور اب بی جے پی مغربی بنگال میں بھی اویسی کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 12, 2020 09:50 PM IST
  • Share this:
مجلس اتحاد المسلمین پر کانگریس کی سخت تنقید، ادھیر رنجن چودھری نے کہا- میں نہیں تو اویسی بھی مسلمانوں کا ٹھیکدار نہیں
مجلس اتحاد المسلمین پر کانگریس کی سخت تنقید، ادھیر رنجن چودھری نے کہا- میں نہیں تو اویسی بھی مسلمانوں کا ٹھیکدار نہیں۔ اویسی کی فائل فوٹو

کولکاتا: کانگریس نے مجلس اتحاد المسلمین کے ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’’میم‘‘ کے بدولت ہی بی جے پی بہار میں حکومت سازی میں کامیابی ہوئی ہے اور اب بی جے پی مغربی بنگال میں بھی اویسی کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بنگال کانگریس کے ریاستی صدر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ میں مسلمانوں کا ٹھیکدار نہیں ہوں تو مسٹر اویسی بھی مسلمانوں کے ٹھیکدار نہیں، مگر میں ہندوستان میں سیکولرازم کا علمبردار ضرور ہوں اور اس ملک میں سیکولرحکومت قائم کرنے کےلئے کوشش کرتا رہوں گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھیررنجن چودھری نے اسدالدین اویسی پر سنگین الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی فنڈنگ سے ان کی پارٹی چلتی ہے اور یہ پارٹی ہراس ریاست میں انتخاب لڑتی ہے جہاں بی جے پی کو ضرورت ہوتی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ بہار میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور پولرائزیشن کی وجہ سے سیکولر اتحاد کی شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی ووٹروں کو پولرائز کررہی تھی تو دوسری طرف اسدالدین اویسی بھی وہی کام کررہے تھے، جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن جہاں ترقی کے نام پر انتخاب لڑرہی تھی وہیں بدقسمتی سے بی جے پی اور مسٹراویسی مذہب کی بنیاد پر ووٹروںکو پولرائز کرنے میں کامیاب رہے۔


لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ بہار میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور پولرائزیشن کی وجہ سے سیکولر اتحاد کی شکست ہوئی ہے۔
لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ بہار میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور پولرائزیشن کی وجہ سے سیکولر اتحاد کی شکست ہوئی ہے۔


ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ بنگال میں بھی جیت حاصل کرنے کےلئے بی جے پی نے اویسی کی خدمات حاصل کررہی ہے ۔ مسلم اکثریتی اضلاع میں امیدوار کھڑا کرکے ریاست کی سیاست مذہبی بنیاد پر تقسیم کردیا جائے گا اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔ادھیرنے کہا کہ بی جے پی اور اسدالدین اویسی کے درمیان تال میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ میں جب مسلم خواتین احتجاج کررہی تھیں تو بی جے پی اسے ناکام بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کررہی تھی۔کئی مسلم نوجوانوں کو مبینہ طور پر گرفتار کرلیا گیا جبکہ ان کا قصور کچھ بھی نہیں تھا۔ دوسری جانب اسدالدین اویسی ملک بھر میں گھو م گھوم کر کے ہندو مسلم کرتے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے ۔آخر کیوں ہے ۔بی جے پی مسٹراویسی پر مہربان کیوں ہے؟ خیال رہے کہ مغربی بنگال میں بھی ایم آئی ایم کئی اضلاع میں اپنی تنظیم کو مستحکم کررہی ہے۔ مالدہ، مرشد آباد اور شمالی دیناج پور جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں اویسی کی پارٹی سرگرم ہے۔ انتخابی تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ بنگال میں بھی اقلیتی ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا اور کانگریس و ترنمول کانگریس کو شدید نقصان ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 12, 2020 09:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading