ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال گیس سانحہ متاثرہ بیوہ خواتین حکومت کی عدم توجہی کا شکار، ایک ہزار پنشن کے لئے بھی متاثرین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

بھوپال گیس سانحہ کو 36 سال کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن متاثرین کے زخم اب بھی ہرے ہیں۔ سانحہ کی تین دہائیاں گزرنے کے بعد ایک طرف گیس متاثرین جہاں علاج و معاوضہ کے لئے در در بھٹک رہے ہیں وہیں گیس سانحہ کی بیوہ خاتون کو دسمبر 2019 سے حکومت نے بیوہ پنشن بھی نہیں ادا کی ہے۔

  • Share this:
بھوپال گیس سانحہ متاثرہ بیوہ خواتین حکومت کی عدم توجہی کا شکار، ایک ہزار پنشن کے لئے بھی متاثرین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور
بھوپال گیس سانحہ متاثرہ بیوہ خواتین حکومت کی عدم توجہی کا شکار

بھوپال: بھوپال گیس سانحہ کو 36 سال کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر حکومت کی عدم توجہی کے سبب گیس متاثرین کے زخم اب بھی ہرے ہیں۔ سانحہ کی تین دہائیاں گزرنے کے بعد ایک طرف گیس متاثرین جہاں علاج و معاوضہ کے لئے در در بھٹک رہے ہیں وہیں گیس سانحہ کی بیوہ خاتون کو دسمبر 2019 سے حکومت نے بیوہ پنشن بھی نہیں ادا کی ہے۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو پنشن نہ ملنے سے کورونا قہر میں ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

بھوپال کا گیس سانحہ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو پیش آیا تھا۔ اس حادثہ میں رپورٹ کے مطابق اس رات 15 ہزار 273 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ 74 ہزار لوگ یونین کاربائیڈ کارخانہ سے نکلنے والی میتھائیل آئیسو سائینائیڈ یعنی ایم آئی سی گیس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ کہنے کو حکومت کی جانب سے گیس متاثرین کے علاج کے لئے اسپتال اور ڈسپنسریاں کھولی گئیں، لیکن یہ سب حکومت کی عدم توجہی کے سبب خود بیمار ہیں تو گیس متاثرین کا علاج کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ کی بیواؤں کو پینشن دینے کا اعلان کیا گیا۔ پنشن شروع بھی کی گئی مگر دسمبر 2019 یہ پینشن بند ہے۔ ایک ہزار روپیہ کی معمولی پینشن حاصل کرنے کے لئے گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو در در بھٹکنا پڑرہا ہے، لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔


گیس سانحہ کی بیوہ خاتون کو دسمبر 2019 سے حکومت نے بیوہ پنشن بھی نہیں ادا کی ہے۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو پنشن نہ ملنے سے کورونا قہر میں ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
گیس سانحہ کی بیوہ خاتون کو دسمبر 2019 سے حکومت نے بیوہ پنشن بھی نہیں ادا کی ہے۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو پنشن نہ ملنے سے کورونا قہر میں ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔


یکم اکتوبر کو پوری دنیا میں یوم بزرگ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین یوں تو کئی بار کورونا قہر میں اپنے مطالبات کو لے کر دھرنا دے چکی ہیں، مگر آج انہوں نے انوکھے انداز میں خالی تھالی لے کر بھوپال کے نیلم پارک میں دھرنا دیا تاکہ حکومت کے ایوان میں بیٹھے لوگوں کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے اور وہ ان کے درد کو محسوس کر سکیں۔
بھوپال گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی سنگھرش مورچہ کے صدر بال کرشن نامدیو کہتے ہیں کہ اب اس سے زیادہ شرمندگی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ مہذب حکومت میں دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ کی شکار بیوائیں اپنی پینشن کے لئے محتاج ہیں۔ حکومت ایک ہزار روپیہ ماہانہ پیشن دیتی ہے مگر یہ معمولی پینشن بھی دسمبر 2019 سے ادا نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح سے بزرگ پینشن کی رقم محض 600 روپئے ہی ادا کی جاتی ہے۔ ہمارا مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کی پینشن جاری کی جائے اور بزرگ پینشن کو بھی جاری کیا جائے تاکہ کورونا قہر میں بزرگ بیواؤں کی زندگی میں کچھ راحت نصیب ہو سکے۔

نے انوکھے انداز میں خالی تھالی لے کر بھوپال کے نیلم پارک میں دھرنا دیا تاکہ حکومت کے ایوان میں بیٹھے لوگوں کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے اور وہ ان کے درد کو محسوس کر سکیں۔
نے انوکھے انداز میں خالی تھالی لے کر بھوپال کے نیلم پارک میں دھرنا دیا تاکہ حکومت کے ایوان میں بیٹھے لوگوں کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے اور وہ ان کے درد کو محسوس کر سکیں۔


گیس متاثرہ بیوہ خاتون اشرفی بی کہتے ہیں کہ آپ کو کیا کیا ستم بتائیں۔ گیس سانحہ میں ماں باپ، شوہر اولاد سب کھو دیا۔ حکومت کی معمولی پینشن سے روکھا سوکھا کھالیتے تھے مگر وہ بھی پچھلے سال سے بند ہے۔ ایسانہیں ہے کہ ایسا پہلی بار کیاگیا ہے۔ مئی دوہزار سولہ میں بھی حکومت کی ذریعہ بنا بتائی پینشن بند کی گئی تھی اور جب چاردسمبردوہزار سترہ کو وزیراعلی شیوراج سنگھ کا گھیراؤ بیوہ خواتین نے کیا تھا تب یہ پینشن جاری کی گئی تھی۔ اب پھر ہم پر وہی ستم جاری ہے۔ آپ ہی بتائئے کورونا قہر میں ہم کہاں جائیں ۔ کسی سے کھانے کو مانگتے بھی بہیں تو لوگ بھگا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں ہماری مالی حالت خود ٹھیک نہیں ہے تو آپ کو روٹی کہاں سے دیں۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے گیس راحت و میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کے مسائل ہمارے سامنے آئے ہیں  انہیں جلد سے جلد حل کیاجائے گا۔ یہ پینشن کانگریس کی کمل ناتھ حکومت میں بند کی گئی تھی ۔ کمل ناتھ حکومت نے گیس متاثرین اور کسانوں کو پریشان کرنے کا کام کیااہے۔اگر انہوں نے اپنا راج دھرم نبھایا ہوتا تو آج یہ دن انہیں دیکھنے کو نہیں ملتے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 01, 2020 06:00 PM IST