ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے کا نفاد:پنجاب میں مقیم افغان سکھ مہاجرین کو ہندوستانی شہری بننے کی امید

کورونا جیسی وبا کے چلتے پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے ہندوستان میں مقیم افغانستان سے آنے والے متعدد سکھ مہاجرین نے اب خوشی کا اظہار کیا ہے اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) نافذ کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے

  • Share this:
سی اے اے کا نفاد:پنجاب میں مقیم افغان سکھ مہاجرین کو ہندوستانی شہری بننے کی امید
ہندوستان میں مقیم افغانستان سے آنے والے سکھ مہاجرین

عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے دوران مرکزی حکومت نے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں سے ہندوستانی شہریت کے لئے درخواستیں طلب کیں ہیں۔ اس پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور لوگوں کو پرانے مسئلہ میں الجھانے کے لیے اس کا آغاز کررہی ہے۔کورونا جیسی وبا کے چلتے پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے ہندوستان میں مقیم افغانستان سے آنے والے متعدد سکھ مہاجرین نے اب خوشی کا اظہار کیا ہے اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) نافذ کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہیں ملک کے سرکاری شہری ہونے کے اہل بننے کا موقع مل رہا ہے۔ وہیں اس قانون سے ہندوستان کے بہت سے اصل شہری ناراض بھی ہیں۔


سکھ مہاجر امریک سنگھ (Amreek Singh) جو افغانستان کے شہر کابل سے آئے تھے اور 2013 سے لدھیانہ میں مقیم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں ہندوستان آیا تھا کیونکہ وہاں بقا بہت مشکل ہوچکی تھی۔ اسی دوران مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون منظور کیا اور حال ہی میں اس قانون کے ذریعہ بھارتی شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواستوں کی اجازت دی گئی۔ ہم اس اقدام کے لئے حکومت کا شکر گزار ہیں اور پرامید ہیں کہ ہم بہت جلد ہندوستان کے شہری بن جائیں گے‘‘۔



چھ سال قبل ہندوستان آنے والی افغانستان کی ایک اور سکھ مہاجر سنیتا کور نے کہا کہ ’’یہ ہمارے لئے خوشی کا لمحہ ہے کہ ہندوستانی حکومت نے شہریت کے لئے درخواستیں داخل کرنے کی اجازت دی ہے۔ ہمیں خوشی اور امید ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے ہم فائدہ اٹھائیں گے‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 31, 2021 07:30 AM IST