உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان بحران کا اثر ، ہندوستان میں بڑھنے لگی خشک میوہ جات کی قیمتیں

    افغانستان بحران کا اثر ، ہندوستان میں بڑھنے لگی خشک میوہ جات کی قیمتیں

    افغانستان بحران کا اثر ، ہندوستان میں بڑھنے لگی خشک میوہ جات کی قیمتیں

    افغانستان میں بدلی ہوئی صورت حال اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندوستان اور افغانستان کی تجارت متاثر ہونے لگی ہے ۔ خشک میووں کی تجارت کے لئے مشہور کھاری باؤلی مارکیٹ میں آج کل تیزی دیکھی جا رہی ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : افغانستان میں بدلی ہوئی صورت حال اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندوستان اور افغانستان کی تجارت متاثر ہونے لگی ہے ۔ خشک میووں کی تجارت کے لئے مشہور کھاری باؤلی مارکیٹ میں آج کل تیزی دیکھی جا رہی ہے ۔ پچھلے دس دنوں میں یہاں پر خشک میووں کی قیمتوں میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔  دہلی کے چاندنی چوک میں واقع اس مارکیٹ سے دہلی اور ملک کو خشک میوہ جات کی فراہمی کی جاتی ہے ۔ لیکن افغانستان میں بدلے ہوئے حالات کی وجہ سے افغانستان سے آنے والے خشک میوہ جات کی قیمتیں مارکیٹ میں بڑھ گئی ہیں ۔ گزشتہ 10 دنوں میں تقریبا 350 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

    افغانستان سے ہندوستان میں کروڑ ڈالر میں برآمدات اور درآمدات کا عمل ہوتا ہے ۔ عام طور سے پاکستان کے راستے سے تجارت کی جاتی ہے اور کارگو کے ذریعے میواجات درآمد کیے جاتے ہیں ۔ جبکہ کپڑے ، دوائی اور گاڑیوں کے کل پرزے برآمد کیے جاتے ہیں ۔ طالبان کی جانب سے اس شاہراہ کو بند کیے جانے اور تجارت پر روک لگائے جانے کی وجہ سے افغانستان سے درآمد ہونے والے خشک میووں کی قیمتوں پر اس کا سیدھا اثر پڑا ہے ۔

    گربندی بادام  650 سے 950 روپے فروخت ہو رہا ہے ۔ اسی طرح انجیر 1000 کی قیمت پر فروخت ہو رہا تھا لیکن اب انجیر کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اور 1200 کلو گرام کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے ۔ سبز پستا 1600 سے 2200 کلو جبکہ خوبانی 420 روپے سے 560 روپے کلو اور کابلی کشمش 800 روپے سے 1200 کلو کی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ۔

    ہندوستان اور افغانستان کے درمیان 10000 کروڑ سے زیادہ کی تجارت ہوتی ہے ۔ ہندوستان 6500 کروڑ کی مالیت کی ادویات ، کپڑے ، آٹوموبائل کے پرزے افغانستان بھیجتا ہے ، جبکہ 3500 کروڑ مالیت کے ڈرائی فروٹ افغانستان سے ہندوستان آتے ہیں ، لیکن بدلتی ہوئی صورتحال میں کاروبار کو دھچکا لگا ہے۔

    طالبان سے خشک میوہ جات دکانداروں کو آس

    خشک میوہ جات سے وابستہ اور تقریبا چالیس سالوں سے سے یہ کاروبار کر رہے  کئی لوگوں کو طالبان سے اچھی امیدیں ہیں ۔ فوری طور پر یہ امیدیں پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں ۔ لیکن دکانداروں کا کہنا ہے جب گزشتہ مرتبہ طالبان برسراقتدار آئے تھے ، تو انہوں نے خشک میوہ جات پر ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کر دی تھی ، جس کے بعد ڈرائی فروٹس کی قیمتیں کم ہوگئی تھیں اور دکانداروں کے لیے منافع بڑھ گیا تھا ۔

    ایک دکاندار نے اپنے چالیس سالہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی خشک میووں میں افغانستان سے درآمد ہونے والے میوہ کی قیمتوں میں صرف اس وجہ سے اضافہ نہیں ہو رہا کہ وہاں سے درآمد بند ہوگئی ہے بلکہ ایک امپورٹ کرنے والے لوگوں نے خود ہی قیمتیں بڑھا دی ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: