உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان پر ویٹ اینڈ واچ کے کردار میں ہندوستان، پاکستان پر بھروسہ کرنا امریکہ کے لئے ثابت ہوا خسارہ

    سابق سفارت کار اور افغانستان معاملوں کے جانکار انل ترگنیات نے کہا کہ طالبان کی ہندوستان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہندوستان نے اب تک اپنے بیانات میں بھی طالبان کا نام نہیں لیا ہے۔

    سابق سفارت کار اور افغانستان معاملوں کے جانکار انل ترگنیات نے کہا کہ طالبان کی ہندوستان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہندوستان نے اب تک اپنے بیانات میں بھی طالبان کا نام نہیں لیا ہے۔

    سابق سفارت کار اور افغانستان معاملوں کے جانکار انل ترگنیات نے کہا کہ طالبان کی ہندوستان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہندوستان نے اب تک اپنے بیانات میں بھی طالبان کا نام نہیں لیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) کی صورتحال بدل چکی ہے۔ کابل میں طالبان (Taliban) کا راج ہے اور ہندوستان سمیت تمام ممالک اپنے لوگوں کو محفوظ نکالنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کی حکمت عملی اب کیا ہوگی، اس بارے میں سابق سفارت کار اور افغانستان معاملوں کے جانکار انل ترگنیات نے کہا کہ ہندوستانی حکومت ابھی ویٹ اینڈ واچ کے کردار میں ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ سے افغانستان کی مدد کی ہے۔ کابل کے ساتھ ہندوستان کےثقافتی تعلقات رہے ہیں۔ افغانستان، ہندوستان کا تاریخی شراکت دار رہا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ افغانستان کی ترقی کے لئے جو ہوسکے گا، کیا جائے گا۔

      انل ترگنیات نے کہا کہ ہندوستانی سیکورٹی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، وہاں بھی ہندوستان کا کردار ہوگا، لیکن ابھی ویٹ اینڈ واچ کی صورتحال ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ جامع حکومت ہونی چاہئے۔ یعنی کہ جو لوگ اہم شراکت دار ہیں، انہیں حکومت میں شامل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اہم تشویش یہ ہے کہ پاکستان کے ذریعہ ہندوستان میں دہشت گردی میں اضافہ نہ ہو۔

      ہندوستان کی طالبان سے لڑائی نہیں

      انہوں نے کہا کہ طالبان کی ہندوستان سے کوئی لڑائی نہیں ہے، نہ ہی ہندوستان کی سیدھے طور پر طالبان سے کوئی لڑائی ہے۔ ہندوستان نے اب تک اپنے بیانات میں بھی طالبان کا نام نہیں لیا ہے۔ ہندوستان نے سبھی شراکت داروں سے بات کی ہے۔ طالبان پر الزام بھی نہیں لگایا ہے۔ پاکستان، چین اور روس طالبان کے ساتھ پہلے سے رابطے میں ہیں۔ چین کی نظر افغانستان کی معدنی دولت پر ہے۔

      پہلے اور اب کے طالبان میں فرق

      سابق سفارت کار نے کہا، ’طالبان کہتا ہے کہ اپنی زمین سے دہشت گردی نہیں بڑھنے دیں گے۔ وہیں طالبان کی گھریلو پالیسی کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ کیا ہوگا۔ شریعہ قانون نافذ کریں گے، لیکن 20 سال پہلے کے اور ابھی کے طالبان میں فرق ہے۔ طالبان کے لوگ بھی بہت اسمارٹ ہوگئے ہیں، اس لئے ہندوستان کے میڈیا سے بھی ان کے ترجمان بات کر رہے ہیں۔ طالبان بین الاقوامی برادری کا حصہ بنے رہنا چاہتا ہے اور طالبان کو بین الاقوامی مدد بھی چاہئے‘۔ انہوں نے کہا، ’ہندوستان کو ماننا ہوگا کہ طالبان ایک سچائی ہے۔ حکومت کو دیکھنا ہوگا کہ ان کے ساتھ کیسے تعلقات بنائے جائیں۔ فوری طور پر دوستانہ ماحول ہو، اس کا امکان بھی نہیں کرسکتے۔ دیکھنا ہوگا کہ طالبان ہمارے اندرونی معاملات پر مداخلت نہ کرے اور جو دہشت گرد تنظیم ہندوستان میں سرگرم ہیں، ان کو ہوا نہ دے‘۔

      طالبان نے ہندوستان کی سرمایہ کاری پر حملہ نہیں کیا

      سابق سفارت کار اور افغانستان معاملوں کے جانکار انل ترگنیات نے کہا کہ ’طالبان نے ہمیشہ سے ہندوستان کے تعاون کو سراہا ہے۔ طالبان نے کبھی نہیں کہا کہ ہندوستان کی سرمایہ کاری ہمیں نہیں چاہئے اور اتنے سالوں کی لڑائی میں طالبان نے کبھی بھی ہندوستان کے 400 فیصدی سرمایہ کاری پر سیدھے حملہ نہیں کیا۔ دراصل ہندوستان کو خطرہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ طالبان نے کبھی بھی ہندوستانی مفاد کو نشانہ نہیں بنایا ہے‘۔

      پاکستان پر بھروسہ امریکہ کو لے ڈوبا

      افغانستان میں امریکی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جو بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بالکل صحیح ہے کہ ساری زندگی افغانستان میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کو ختم کرنے لئے ہندوستان آیا تھا، نہ کہ قوم کی تعمیر کے لئے۔ پھر بھی امریکہ کی پالیسی بالکل غلط رہی ہے۔ یہ امریکی خفیہ محکمہ کی کامیابی تھی اور یہ تشویش کا موضوع ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی خفیہ اطلاعات پر زیادہ بھروسہ کیا‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: