تلنگانہ آبروریزی اور قتل کیس : تین دنوں کے بعد کے سی آر نے توڑی خاموشی ، کہا : فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلے گا مقدمہ

تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پہلی مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔

Dec 01, 2019 11:59 PM IST | Updated on: Dec 01, 2019 11:59 PM IST
تلنگانہ آبروریزی اور قتل کیس : تین دنوں کے بعد کے سی آر نے توڑی خاموشی ، کہا : فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلے گا مقدمہ

خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے خلاف لوگ احتجاج کرتے ہوئے ۔ تصویر : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پہلی مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے اس معاملہ میں جلد سے جلد انصاف کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ کے سی آر نے اس معاملہ میں اپنا پہلا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سبھی ذمہ دار افسران کو ہدایت دی کہ تیز رفتاری سے کیس کی جانچ کی جائے ۔

وزیر اعلی کے سی آر نے کہا کہ قصورواروں کو جلد سے جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے گی ۔ وزیر اعلی نے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کی بھی ہدایت دی ۔ واقعہ کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں راو نے چار لوگوں کے ذریعہ خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کو خوفناک قرار دیا اور اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔

کے سی آر کے دفتر کے ذریعہ جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے افسران کو فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کیلئے کارروائی شروع کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت خاتون ڈاکٹر کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کرنے کیلئے تیار ہے ۔

ریاست کے آئی ٹی وزیر کے ٹی راما راو نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ آئی پی سی اور سی آر پی سی میں تبدیلی کرکے ایسے گنہگاروں کیلئے سخت سے سخت سزا کا بندوبست کرے ۔ بتادیں کہ حیدرآباد میں ایک خاتون ویٹرنری ڈاکٹرکی پہلے چھ لوگوں نے اجتماعی آبروریزی کی اور پھر اس کا قتل کرکے اس کے جسم کو جلا دیا ۔ اتنا ہی نہیں اس کے جسم کو برج سے نیچے پھینک دیا ۔ حیوانیت بھری اس واردات کے بعد ملک بھر میں غصہ ہے ۔ سبھی جانب سے قصورواروں کو سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

Loading...