کشمیر میں پھر سے کھلے کالج ، لیکن نہیں پہنچے طلبہ ، لوگوں نے بھی دکانیں بند کرکے درج کرائی مخالفت

جموں و کشمیر انتظامیہ کی بدھ کو وادی میں کالج کھولنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں کیونکہ طلبہ کلاسیز کیلئے نہیں پہنچے ۔

Oct 09, 2019 07:03 PM IST | Updated on: Oct 09, 2019 07:03 PM IST
کشمیر میں پھر سے کھلے کالج ، لیکن نہیں پہنچے طلبہ ، لوگوں نے بھی دکانیں بند کرکے درج کرائی مخالفت

وادی کشمیر میں پھر سے کھلے کالج ، لیکن نہیں پہنچے طلبہ ، نہیں کھلے بازار

جموں و کشمیر انتظامیہ کی بدھ کو وادی میں کالج کھولنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں کیونکہ طلبہ کلاسیز کیلئے نہیں پہنچے ۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر سے پانچ اگست کو خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے فیصلہ کو بدھ کو 66 دن ہوگئے ہیں ۔ کشمیر کے ڈویزنل کمشنر بشیر خان نے گزشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر میں تین اکتوبر کو اسکول اور نو اکتوبر کو کالج پھر سے کھول دئے جائیں گے ۔

افسران نے بتایا کہ کالج میں ملازمین تو پہنچے ، لیکن طلبہ ندارد تھے ۔ انتظامیہ کی کافی کوششوں کے باوجود اسکولوں میں بھی طلبہ نہیں پہنچ رہے ہیں ۔ وادی کے زیادہ تر حصوں میں بند اور ٹیلی مواصلات پر روک کے پیش نظر سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر اہل خانہ اپنے بچوں کو اسکول یا کالج نہیں بھیج رہے ہیں ۔ بدھ کو پورے کشمیر میں معمولات زندگی متاثر رہی ۔

Loading...

ادھر دکانداروں نے بھی مخالفت درج کرانے کیلئے اپنی دکانیں علی الصبح سے لے کر 11 بجے تک ہی کھولیں ۔ پوری وادی میں لینڈ لائن ٹیلی فون سروسز بحال ہیں ، لیکن کشمیر کے زیادہ تر حصوں میں موبائل ٹیلی فون خدمات اور انٹرنیٹ خدمات پانچ اگست سے بند ہیں ۔

کانگریس نے کیا جموں و کشمیر میں بی ڈی سی الیکشن کا بائیکاٹ

دوسری طرف بدھ کو کانگریس پارٹی نے جموں و کشمیر میں 24 اکتوبر کو ہونے والے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل ( بی ڈی سی ) الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مرکزی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ جب اپوزیشن کے لیڈران حراست میں ہیں تو الیکشن کون لڑے گا ۔ خیال رہے کہ نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور علاحدگی پسند لیڈران نظر بند ہیں ۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبد اللہ کو تو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

Loading...