ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بالآخر 8 مہینے بعد دہلی وقف بورڈ کو ملا چیئرمین، امانت اللہ خان بلامقابلہ منتخب

بالآخر 8 ماہ کے طویل انتظار کے بعد آج امانت اللہ خان ایک مرتبہ پھر دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین منتخب کرلئے گئے۔ اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین رہے امانت اللہ خان کو آج ڈویزنل کمشنر کے آفس میں تمام ممبران کے ذریعہ بلامقابلہ دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔

  • Share this:
بالآخر 8 مہینے بعد دہلی وقف بورڈ کو ملا چیئرمین، امانت اللہ خان بلامقابلہ منتخب
بالآخر 8 مہینے بعد دہلی وقف بورڈ کو ملا چیئرمین، امانت اللہ خان بلامقابلہ منتخب

نئی دہلی: بالآخر 8 ماہ کے طویل انتظار کے بعد آج امانت اللہ خان ایک مرتبہ پھر دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین منتخب کرلئے گئے۔ اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین رہے امانت اللہ خان کو آج ڈویزنل کمشنر کے آفس میں تمام ممبران کے ذریعہ بلامقابلہ دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔ طے شدہ شیڈیول کے مطابق، آج 5 بجے شام ڈویزنل کمشنر کے آفس میں وقف بورڈ کے چیئرمین کے انتخاب کے لئے تمام بورڈ ممبران کی میٹنگ ہوئی، جس میں ساتوں ممبران میں سے سابق ایم پی زمرہ سے ممبر پرویز ہاشمی کے علاوہ تمام ممبران نے شرکت کی اور متولی زمرہ سے ممبر چودھری شریف نے چیئرمین کے لئے امانت اللہ خان کا نام پیش کیا، جس کی رضیہ سلطانہ نے تائید کی، جس کے بعد باقی تمام موجود ممبران نے بھی امانت اللہ خان کے حق میں اپنی حمایت پیش کی۔ شام 6 بجے تک امانت اللہ خان کے دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہونے کا اعلان کردیا گیا۔


امانت اللہ خان کے وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہوتے ہی دہلی کے مسلمانوں اور امانت للہ خان کے چاہنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چیئرمین منتخب ہوتے ہی امانت اللہ خان سیدھے دہلی وقف بورڈ آفس پہنچے، جہاں بورڈ ممبران اور وقف بورڈ کے عملہ کے علاوہ معزز سماجی کارکنان اور ذمہ داران نے امانت اللہ خان کا استقبال کیا۔ سب سے پہلے وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد اور سیکشن آفسیر نشاب احمد خان کے ذریعہ گلدستہ پیش کرکے اپنے نومنتخب چیئرمین کا استقبال کیا گیا، اس کے بعد چیئرمین صاحب کے پی اے اور بورڈ ملازمین کے نمائندہ فیروز خان نے تمام ملازمین کی جانب سے امانت اللہ خان کی خدمت میں گلدستہ پیش کرکے مبارکباد دی۔


 امانت اللہ خان کے وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہوتے ہی دہلی کے مسلمانوں اور امانت للہ خان کے چاہنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

امانت اللہ خان کے وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہوتے ہی دہلی کے مسلمانوں اور امانت للہ خان کے چاہنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔


نومنتخب چیئرمین امانت اللہ خان نے اس موقع پر تمام دہلی والوں اور وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ میں انشاء اللہ ایک مرتبہ پھر وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے لوگوں کی امیدوں پر کھرا اترنے کی کوشش کروں گا۔ امانت اللہ خان نے آگے کہا کہ میری سب سے اولین ترجیح دہلی وقف بورڈ کے رکے ہوئے کاموں کو پورا کرنے پر مرکوز ہوگی اور انشاءاللہ ایک ہفتہ کے اندر جن ملازمین کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں، انھیں جاری کردیا جائے گا۔ امانت اللہ خان نے ملازمین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسی طرح لگن اور محنت سے کام کرتے رہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وقف بورڈ ہمارے اسلاف کی میراث اور ایک قیمتی امانت ہے اور ایک بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ انشاءاللہ میں پوری امانت داری اور دیانتداری کے ساتھ ملت کے اس ادارہ کی ترقی کے لئے کوشاں رہوں گا اور اپنے اسلاف کی اس میراث کی حفاظت کےلیئے جو کچھ بھی ممکن ہوسکا کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

اس سے قبل وقف بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر نے عام آدمی پارٹی حکومت اور وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وزیر اعلی نے وقف بورڈ کی ذمہ داری ایک ایسے شخص کو سونپی ہے، جس نے پوری امانت داری کے ساتھ وقف بورڈ کی خدمت کی ہے اور انشاءاللہ آگے بھی ان سے یہی امید ہے۔چودھری شریف نے کہا کہ ہمیں اپنے چیئرمین سے بہت امیدیں ہیں اور انشاءاللہ وہ وقف بورڈ کی ترقی کے لیئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں سماجی کارکنان کے علاوہ وقف بورڈ کا عملہ، دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکرخان، اوکھلا سے بڑی تعداد میں امانت اللہ خان کے چاہنے والے موجود رہے اور انھیں تیسری مرتبہ وقف بورڈ کا ممبر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ غور طلب ہے کہ 20 مارچ کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے اس بنیاد پر چیئرمین شپ سے برخاست کر دیا تھا کہ وہ دہلی  میں ہوئے انتخابات  کی وجہ سے کچھ عرصہ ممبر اسمبلی نہیں رہے۔ دہلی وقف بورڈ کے ضابطے کے مطابق 6 ماہ مہینے کے اندر بورڈ کو نیا چیئرمین ملنا چاہیے تھا، لیکن 8 مہینے لگ گئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 19, 2020 11:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading