ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بڑی جیت کے بعد امانت اللہ خان نے کہا : دہلی کے دو کروڑ لوگوں نے اتنی زور سے دبا دیا بٹن کہ امت شاہ کو ہی لگ گیا کرنٹ

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں امانت اللہ خان نے 130367 ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کے امیدوار برہم سنگھ کو 71827 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی ۔ امانت اللہ خان نے 66.03 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔

  • Share this:
بڑی جیت کے بعد امانت اللہ خان نے کہا : دہلی کے دو کروڑ لوگوں نے اتنی زور سے دبا دیا بٹن کہ امت شاہ کو ہی لگ گیا کرنٹ
امانت اللہ خان ۔ تصویر پی ٹی آئی ۔

ایک مرتبہ پھر دہلی میں عام آدمی پارٹی نے 62 نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی ہے ۔ دہلی میں شاہین باغ کا سیاسی شگوفہ پوری طرح ناکام ہوگیا اور عام آدمی پارٹی کا ترقی کا موضوع پاس ہو گیا ، لیکن اس سب کے درمیان اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے دہلی میں سب سے بڑی جیت درج کرکے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ۔ امانت اللہ خان نے سب سے بڑی فتح حاصل کرنے کا ریکارڈ بناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ پر بڑا حملہ بولا اور انہیں نفرت کی سیاست چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ دہلی کے عوام نے امت شاہ کو کرنٹ لگایا ہے۔


نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے امانت اللہ خان نے کہا کہ آج نفرت کی سیاست ختم ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اتنے زور سے بٹن دبانا کہ شاہین باغ میں کرنٹ لگے ، دہلی کے 2 کروڑ لوگوں نے بٹن کو اتنی زور سے دبایا کہ امت شاہ جی کو کرنٹ لگ گیا ۔ میں کہتا ہوں کہ امت شاہ جی نفرت کی سیاست چھوڑ دیں ، جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں ، آپ وزیر اعظم ہوتے ہیں ، آپ وزیر داخلہ ہوتے ہیں ، تو جس کام کے لئے عوام نے آپ کا انتخاب کیا ہے وہ کام کریں ، نہ کہ اس کا استعمال ہندو اور مسلمانوں سے نفرت کی سیاست کے لئے کریں ۔ آپ 125 کروڑ عوام کے وزیر داخلہ ہیں ، آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آپ سبھی لوگوں کے لئے ہیں اور سبھی کے لیے کام کرنا ہے ۔ آپ کچھ لوگوں کے بنے ہوئے ہیں ، اسی وجہ سے مسئلہ ہے ۔


امانت اللہ خان نے کہا کہ امت شاہ جی شاہین باغ کے مظاہرین سے ملاقات کریں ، کیونکہ کہ امت شاہ جی آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ آپ گھر گھر گھوم سکتے ہیں تو شاہین باغ کے لوگوں سے کیوں نہیں ملتے ، شاہین باغ کے لوگوں سے اتنی نفرت کیوں ہے ، تقریبا 2 ماہ ہوگئے ہیں ، خواتین ، بچے ، جوان سردیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں ، آپ ان کے وزیر داخلہ بنیں ، آپ ان سے ملاقات کریں اور معلوم کریں کہ آخر وہ لوگ اتنے دنوں سے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اگر شاہین باغ کے نام پر ووٹ مل سکتے ہیں ، شاہین باغ کو موضوع بنا کر ووٹ لیے جا سکتے ہیں تو پھر شاہین باغ کے لوگوں سے ملاقات بھی کی جاسکتی ہے۔


عام آدمی پارٹی کے کارکنان دہلی اسمبلی انتخابات میں ملی بڑی جیت کا جشن مناتے ہوئے ۔ تصویر : اے پی ۔
عام آدمی پارٹی کے کارکنان دہلی اسمبلی انتخابات میں ملی بڑی جیت کا جشن مناتے ہوئے ۔ تصویر : اے پی ۔


ریکارڈ فتح کے سوال پر امانت اللہ خان نے کہا کہ ترقی کی سیاست جیت گئی ہے ۔ لوگوں کو نفرت پسند نہیں ۔  پاکستان ، ہندو اور مسلمان یہ سب عوام نہیں چاہتے ۔ لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی ، اسپتال ، سیور ، سڑکیں ، پانی اور زندگی کے مسائل میں آسانی کے خواہاں ہیں ۔ لوگوں نے ان سب چیزوں پر ووٹ ڈالے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی نے یہ سارا کام کیا اور ہم اپنے کام کو لے کر عوام کے پاس گئے اور عوام نے ہمیں ترقی کے موضوع پر ووٹ دیا ہے ۔ امانت اللہ خان نے کہا کہ اتنی بڑی فتح کے لئے انہوں نے الگ سے کچھ نہیں کیا ، بلکہ عوامی طور پر کام کرتے رہے ۔ خاص طور پر وزیراعلی اروند کیجریوال کو اپنے کئے ہوئے کام پر ووٹ ملے ہیں ۔ ہمیں عوام کے ہر طبقے نے ووٹ دیا ہے ، خواہ وہ ہندو ہوں ،مسلمان ہو یا پھر کسی بھی مذہب اور کسی بھی طرح کے ہوں ، سب نے ووٹ دیا ہے۔ امانت اللہ خان نے کہا کہ ان کی ترجیحات جلد از جلد 318 بستروں پر مشتمل اسپتال بنوانی ہوگی ۔ جب پانی کی پائپ لائن بچھائی گئی ہے تو جلد ہی پانی کی سپلائی بھی شروع کی جائے  ۔ اسی طرح  اسکولوں کو بھی ترجیحی طور پر تعمیر کرنا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں امانت اللہ خان نے 64000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ جبکہ اس مرتبہ اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے امانت اللہ خان نے 130367 ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کے امیدوار برہم سنگھ کو 71827 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی ۔ امانت اللہ خان نے 66.03 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ بی جے پی کے امیدوار برہم سنگھ کو صرف 58540 ووٹ ملے اور ان کا ووٹ فیصد 29.65 رہا ۔  دوسری طرف راجیہ سبھا کے سابق ممبر پارلیمنٹ پرویز ہاشمی جو دہلی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں ، اپنی ضمانت نہیں بچا سکے ۔ کانگریس کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں 6000 ووٹ بھی نہیں ملے ۔ پرویز ہاشمی کو 5123 ووٹ ملے اور پانچ فیصد ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے  اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی ۔  اگرچہ کانگریس نے سابق ایم ایل اے آصف محمد خان کا ٹکٹ کاٹ کر پرویز ہاشمی کو انتخابی میدان میں اتارا تھا ، لیکن ووٹروں نے یکطرفہ عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیتے ہوئے امانت اللہ خان کو ووٹ دیا ۔

امانت اللہ خان پہلے مرحلے میں بی جے پی امیدوار سے 214 ووٹوں سے پیچھے ہوگئے تھے ، لیکن اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور دہلی میں سب سے بڑی جیت درج کی ۔ حالانکہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ براڑی سے سنجیو جھا کو حاصل ہوا ، جنہوں نے 139598 ووٹ حاصل کیے اور بی جے پی اتحاد میں شامل جے ڈی یو سے انتخاب لڑ رہے شیلندر کمار کو 88158 ووٹوں سے شکست دی ۔ شیلندر کمار نے صرف 51440 ووٹ حاصل کیے ۔ تاہم سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے اور سب سے زیادہ فرق سے جیت حاصل کرنے کے باوجود وہ امانت اللہ خان سے تھوڑا سا پیچھے رہ گئے ۔ سنجیو جھا کا ووٹ فیصد  62 ہی رہا۔ جب کہ جے ڈی یو کے شیلیندر کمار صرف 23 فیصد ووٹ حاصل ہوئے براڑی کی نشست پر شیوسینا نے بھی 9 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 18044 ووٹ حاصل کئے ۔

 
First published: Feb 11, 2020 11:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading